تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 326
۳۲۶ جب اس رو کا احساس ہوا تو حکام نے اس کو دبانا چاہا اور جو شخص بھی احمدی ہونے لگتا اس پر دباؤ ڈالا جاتا کہ اگر وہ احمدی ہو گیا تو اسے ملازمت سے برخواست کر دیا جائے گا یا اسے جائداد سے محروم کر دیا جائے گا لیکن اس کے باوجود ہمارے مبلغ کو خدا تعالیٰ نے اس علاقہ میں کامیابی عطا فرمائی۔آج وہاں سے ایک اور خط آیا ہے کہ دوسرے مبلغ کو بھی ایک دوسرے علاقہ میں بھیجا جارہا ہے۔اور خیال ہے کہ اگر یہ مبلغ اس علاقہ میں گیا تو وہ سارے کا سارا علاقہ احمدیت میں داخل ہو جائے گا۔بورمیو میں آبادی کم ہے۔لیکن علاقہ بہت وسیع ہے۔اگر انگریزی یا انڈو نیشین بورنیو دونوں کو ملا لیا جائے تو اس کا رقبہ ہندوستان کے نصف کے برابر ہے اور پاکستان سے وہ تین چار گنا زیادہ ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ میں احمدیت پھیلا دی تو یہ ہمارے لئے بڑی برکت کا باعث ہوگا ہے ۱۹۵۵ء میں مندرجہ ذیل مجاهدین امارات مجاہدین احمدیت کی روانگی اور کامیاب مراجعت بلا د غیر میں بغرض تبلیغ اسلام تشریف لے گئے :- ا۔لم۔مکرم مولوی نذیر احمد صاحب میشر۔آپ مع اہل و عیال تیسری بار گولڈ کوسٹ (غانا) تشریف لے گئے۔-۲- مکرم صوفی محمد اسحق صاحب (۲۸ جنوری ۶۹۵۵ ) برائے گولڈ کوسٹ۔۳۔مکرم خلیل احمد صاحب اختر برائے لائبیریا (۲۸ جنوری ۹۵) ہم۔مکرم چوہدری محمود احمد صاحب چیمہ برائے سیرالیون (۲۸/ جنوری ۱۹۵۵) ه - حکیم قاضی مبارک احمد صاحب برائے سیرالیون (۲۸ جنوری ۹۵۵اء ) -4 مکرم شیخ ناصر احمد صاحب برائے سوئٹزر لینڈ (۲۷) فروری ۱۹۵۵ اوت مکرم مولوی صالح محمد صاحب برائے لنڈن ۲۴ مارچ ۱۹۵۵ ء ہے مکرم مولوی نور الدین صاحب مشیر برائے مشرقی افریقہ (۲۱) جولائی ۹۵۵ ادا ہے ,^ المفضل ۱۸ر جنوری شماره صفحه را در خطبه جمعه فرموده ۱۳۰ دسمبر ۶۸۱۹۹۵) سه الفضل ۲۹ جنوری شاء صفحه را در بیکار ڈ تحریک جدید کے مطابق روانگی کی تاریخ ۲۷ جنوری ۱۹۵۵) سے افضل یکم مارچ ۱۹۵۵ء مستحث سے افضل ۲۷ باپ شهداء صفحوت - شه الفضل ۲۲ جولائی ۱۹۵۵ء صفحه را -