تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 322 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 322

۳۲۲ مارچ ۱۹۵۵ء میں مکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب خلیل نے ایک جلسہ میں تمام سیحیوں کو حضرت مسیح کی صلیب سے نجات اور سفر کشمیر کے موضوع پر دعوت مذاکرہ دی جو اخبار ڈیلی میل " مورخہ ۱۴در مارچ ۱۹۵۵ء میں ایک مختصر مضمون کی صورت میں بھی شائع ہوئی۔یہ مضمون لاکھوں مسیحیوں کی نظر سے گزرا لیکن کسی کو مقابل پر آنے کی جرات نہ ہوئی حتی کہ اخبار ڈیلی میل " میں ایک عیسائی نے اپنے طویل خط میں اعتراف کیا کہ مبلغ اسلام کے چیلینج کا کوئی معقول اور نسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔مولوی صاحب موصوف نے ایک یہ پورٹر سے رجو امریکہ اور لائبیریا میں دس سال تک رہے اور ان دنوں فری ٹاؤن میں تھے۔اس سلسلہ میں گفتگو کی وہ۔مادہ بہت متاثر ہوئے اور انہیں بھی تسلیم کرنا پڑا کہ بشپ اور دوسرے سیمی اصل موضوع سے گریز کر گئے ہیں لیے 14۔۔مکرم مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کی کوشش سے ریاست نے فیصلہ کیا کہ - وکو پر احمد یہ سکول کی نئی عمارت سرکاری خمریخ پر تیار کی جائے۔اس کے لئے سولہ سو پونڈ کی منظوری دی۔روکو ٹیچر میں پندرہ سال سے خانہ خدا قائم کرنے کی کوشش ہورہی تھی۔مگر چیفیس اور دیگر مخالفین جماعت کے عدم تعاون کی وجہ سے معاملہ تعطیل میں رہا۔اللہ تعالیٰ نے اس بارہ میں بھی کامیابی بخشی، چنانچہ آپ کی تحریک پر 1 پونڈ میں ایک مکان برلب سڑک خرید لیا گیا۔حضرت مصلح موعود کی دیرینہ خواہش تھی کہ سیرالیون سے ایک جماعتی اخبار جاری کیا جائے۔یہ خواہش اس سال پوری ہوئی اور ماہ مٹی سے ہو " احمدیہ دارالتبلیغ سے ایک پندرہ روزہ اخبار افریقین کو سینٹ " کے نام سے جاری کیا گیا ہے اور مشن کے ہیڈ کوارٹر ہو " میں نذیر مسلم پریس سے طبع ہونے لگا۔یہ نیا پریس حضرت مصلح موعود کی خواہش کے مطابق مولانا نذیر احمد علی صاحب کی یاد میں قائم کیا گیا تھا۔ریاست ٹونکیا سیرالیون سے جنوب مشرق میں واقع ہے جہاں عرصہ سے پانچ مختلف مقامات پر دو سو افراد پر شتمل جماعتیں قائم تھیں اور تین مقامات پر احمد یہ جوت الذکر بھی تعمیر ہو چکے تھے۔ه الفضل در اگست ۹۵۵اء مه الفضل ۵ اگست ۶۱۹۵۵ ۳۰ سے المفضل ١٥/ نومبر ١٩٥٥ ء ص ٣ -