تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 321
OBA نے افتتاح مولانا نسیم سیفی صاحب کی تقریہ (فلسفہ دُعا سے ہوا۔مقامی حاکم اوبیا اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا " جن دنوں ہم تمہاری عمر کے تھے۔ہمارے ہاں عیسائیت کا اس قدر زورہ تھا کہ ہمارے لئے مسلمان کہلا نا مشکل تھا۔یہ شاہ کا ذکر ہے جب ہم نے قادیان میں جماعت احمدیہ کو لکھا اور انہوں نے وہاں سے ۱۹۳۷ء میں ایک مشنری بھیجا اور ہم اس قابل ہوئے کہ نائیجریا میں سب سے پہلا مسلمان سکول جاری کر سکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ملک میں مسلمان قوم کی ترقی کا آغازہ احمدیت کے داخل ہونے سے ہوا۔لیگس میں ایک نیا احمد یہ سکول جاری کیا گیا جس سے جماعت کے تعلیمی اداروں کی تعداد وش ہو گئی ہے ر اکتوبر دواء کو آل پاکستان مسلم آرگنا ئزیشن اور ورلڈ اسمبلی آف یوتھ کی ایگزیکٹو کے ممبر جناب انعام اللہ خانصاحب نائیجیریا پہنچے۔مکرم مولانا نسیم سیفی صاحب، مکرم مولوی مبارک احمد صاحب ساتی اور پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ نائیجریا نے ہوائی مستقر پر ان کا استقبال کیا۔آپ احمد پٹیشن ہاؤس میں بھی تشریف لائے اور قرآن مجید کے ڈرح ، جرمن ، سواحیلی اور انگریزی تراجم کو دیکھ کہ بہت متاثر ہوئے ہے سیرالیون مشن مکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب خلیل مبلغ فری ٹاؤن نے اس سال اخبار ڈیلی میل کے یہودی رپورٹر سے کئی بار مذہبی گفتگو کی۔اخبار نے ۴ار مارچ کو آپ کا مضمون شائع کیا۔جس میں اس امر کا ذکر تھا کہ مسیح صلیب پر قوت نہیں ہوئے۔یہ ضمون لاکھوں مسیحیوں کی نظر سے گزرا مگر کسی سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔بعض میسائی اصحاب نے غیر متعلق باتیں چھپوا کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کی۔جو کا سر صلیب کے علم کلام کی برتری کا بین ثبوت تھا۔ایک سیمی نے ایڈیٹر ڈیلی میل " کے نام ایک خط میں مسیحیوں کی اس روش پر تنقید کی۔ایڈیٹر صاحب ڈیلی میل “ پر اس کا ایسا نمایاں اثر ہوا کہ انہوں نے ۲۱ مارچ ۹۵۵ ایڑ کے جلسہ کے دوران واضح لفظوں میں اعلان کر دیا کہ اسلام مسیحیت سے بدرجہا بہتر ہے کیا ه روزنامه الفضل ن۲۷ ستمبر هواء سه روزه نامه الفصل ۱ نومبر ۱۹۵۵ ء • سے روزنامه الفضل ۱۵ اپریل شهداء منه و خلاصهہ رپورٹ مکرم مولوی محمدابراہیم صاحب خلیل - )