تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 291
۲۹۱ ۱۳- محترمدرس بیده نا صرہ خاتون صاحبه امنیت محترم ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب انچارج فاطمہ حیات سینی ٹوریم کوٹر) پنجاب یونیورسٹی ایم اے اُردو یونیورسٹی میں اول آئیں۔ان کو طلائی تمغہ دیا گیا یہ جامعہ احمدیہ کی احمدنگر سے یو منتقلی جامعہ احمد یہ سات سال تک احمدنگر میں جاری رہنے کے بعد ۲۲ فروری شهدا ء کو ربوہ میں منتقل ہوا۔اس موقع پر احمد نگر کے سربراہ ، نمبر دار ، اور مسلم لیگ احمد نگر کے نائب صدر نے جامعہ کے اساتذہ اور طلباء کے اعزاز میں ایک وسیع پارٹی دی اور ان کے حسن سلوک اور ہمدردانہ رویہ کو سراہا اور سیلابوں میں ان کی ناقابل فراموش خدمات کو خراج تحسین ادا کیا۔مکرم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری نے احمدنگر کے معززین کا شکریہ ادا کیا اور دین ودنیا کی کامیابی کے لئے دُعا کی مولانا ابوالعطاء صاحب پرنسپل جامعة المبیشترین قبل ازیں جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے اور آپ ہی کے زیر انتظام فروری ۱۹۲۶ء میں به مرکزی اداره لاہور سے احمد نگر منتقل ہوا تھا ہوں نا صاحب بھی اس تقریب میں مدعو تھے اور آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ سات سالہ عرصہ میں مقامی باشندوں کے ساتھ ہمارے ایسے گہرے تعلقات رہے ہیں کہ فنانشل کمشنر صاحب پنجاب اور صوبائی وزیر بحالیات جب یہاں تشریف لائے تو وہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ہے " ۲۶ مئی ۱۹۵۵ء کو جناب ملک صلاح الدین صاحب قادیان سے سالہ اصحاب احمد کا اجراء ایم اے نے قادیان سے ایک دو ماہی رسالہ اصحاب احمد " کے نام سے جاری کیا جو جولائی 1907ء تک شائع ہوتا رہا۔اس رسالہ میں نہ صرف متعدد اصحاب مسیح موعود کے ایمان افروز حالات شائع ہوئے بلکہ حضرت خلیفہ المسیح الاول مولانا نور الدین حضرت مصلح موعودہؓ اور حضرت نواب میہار کہ بیگم صاحبہ کی مبارک تحریرات کے عکس اور چربے اور تاریخ سلسلہ سے متعلق نهایت قیمتی اور نایاب تصاویر محفوظ ہوگئیں۔علاوہ اثر یں حضرت مصلح موعود کے سفر یورپ ۱۹۲۷ء کے ابتدائی کوائف بھی ریکارڈ ہوئے۔یہ رسالہ سیدی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سے دعا کے بعد جاری کیا گیا۔آپ۔ارا پریل ۱۹۵۵ء کو ربوہ سے دارالامان وارد ہوئے تھے ہیں افضل ۲۰ جنوری ۶۱۹۵۶ ص۲ - له الفضل ۲۴ فروری ۵۵ ماء ورد - ۵۳ اخبار بدر ۴ ر ا پریل ۱۹۵۵ء ص کالم ۴