تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 288 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 288

۳۸۸ دنیا میں جہاں کہیں بھی رنگ اور نسل کے بارے میں سفید نام اقوام کے تعصیات انسانی برادری سے متعلق مسیح کی تعلیم کو پس پشت ڈال کر اس کی تردید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہاں اب رعیسائیت کی جگہ اسلام پھیل رہا ہے ، ایسا کیوں ہے۔اس کے اسباب ظاہر وباہر ہیں۔دین بیوی اور دین موسوی کی طرح اسلام کا آغاز بھی بحیرہ روم کے جنوب مشرقی کوتے ہیں سامی النسل لوگوں کے درمیان ہی ہوا تھا۔چنانچہ یوروشلم کی قدیم پہاڑی جو ساتویں صدی عیسوی کے زمانہ سے مسلمانوں کے لئے ایک متبرک عبادت گاہ کا درجہ رکھتی ہے عیسائیت کے نمودار ہونے سے قبل یہودیوں کے لئے بھی اسی طرح متبرک تھی، اور وہ وہاں اپنے جانوروں کی قربانی دیتے تھے۔اگر چہ مسلمانوں نے خود اس غرض کے لئے اس جگہ کو کبھی استعمال نہیں کیا۔لیکن آج دنیا میں مسلمانوں کی آبادی مختلف رنگ اور نسل کے لوگوں پر شتمل ہے اور اس کی ایک بھاری اکثریت سامی نسل کے علاوہ کلبہ دوسرے نسلی گروہوں سے تعلق رکھتی ہے۔ان میں سے تین چوتھائی کے قریب ایشیا میں آباد ہے اور باقی کا اکثر حقہ افریقہ میں پھیلا ہوا ہے جہاں لاکھوں لاکھ منشی باشندے جن کی تعداد وہاں کی اصل آبادی کے پانچویں حصے کے برابر ہوگی اسلام قبول کر چکے ہیں بعض علاقوں میں جہاں آجکل عیسائی مشنری اور مسلمان مبلغ ایک دوسرے کے بالمقابل اپنے اپنے مذہب کی اشاعت میں مصروف ہیں حالت یہ ہے کہ عیسائیت قبول کرنے والے ایک شخص کے مقابلے میں دس حیثی اسلام قبول کرتے ہیں۔به امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ مغربی افریقہ میں اب اسلام کو واضح طور پر حبشیوں کا مذہب قرار دیا جاتا ہے جبکہ عیسائیت وہاں صرف سفید فام لوگوں کا مذہب بن کر رہ گئی ہے " رسالہ کی اشاعت کے بعد نیو یارک کے ادارہ 142 TIME INCORPORATED THE WORLD'S GREAT می به مضامین کتابی شکل میں شائع کر دیئے اور اس کا نام رکھا۔افسوس ادارہ نے کتاب میں سے جماعت احمدیہ کی تاریخ اور تبلیغ اسلام کی مساعی کا تفصیلی ذکر خارج کر دیا اور اس کی بجائے صرف چند سطریں بطور خلاصہ لکھے دیں۔رسالہ " لائف" کے مندرجہ بالا امریکی سیالہ گالف کے مضمون پر اخبار لوں قلم تم تبصرہ مضمون پر پشاور کے اخبار وح و قلم تے حسب ذیل تعیصرہ سپر د اشاعت کیا :-