تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 287
نئے زمانے کی ضرورت کے مطابق اسلامی تعلیمات کے نئے نئے معارف ان پر کھولے ہیں۔انہوں نے اس اکبر پر بھی زور دیا کہ ان کی بعثت کی خیر بائیل اور قرآن دونوں میں موجود ہے۔انہوں نے مسیح اور مہدی ہونے کا بھی اعلان کیا۔اور اس کے ثبوت میں اس امر کو خاص طور پر دنیا کے سامنے نہ کھا کہ خود ان میں اور مسیح میں جو ہو اور اوصاف کے لحاظ سے مماثلت پائی جاتی ہے گو بعد میں انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ملحاظ مرتبہ سینے سے افضل ہیں۔چند سال بعد انہوں نے اس دعوئی کا بھی اعلان کیا کہ وہ مہندؤوں کے لئے کوشن ہیں۔انہوں نے اپنے آپ کو اس رنگ میں بھی ظاہر کیا کہ وہ اللہ تعالی سے خیر یا کہ اپنے مخالفین کی موت کی پیشگوئی کرنے اور اُن کے انجام کے متعلق قبیل از وقت اطلاع دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔بعد میں ان کی یہ پیشگوئیاں اس طریق پر حرف بحرف پوری ہونے لگیں کہ حکومت نے بالآخر انہیں اس قسم کی پیشگوئیاں کرنے سے منع کر دیا۔ان کی تعلیم نرمی اور آزاد خیالی پر مبنی تھی۔انہوں نے تعلیم دی کہ اسلام جہاد کے ذریعہ نہیں بلکہ اپنی باطنی تو بیوں کے ذریعہ دنیا میں پھیلے گا۔اور طوار نہیں بلکہ خالصہ تبلیغی جد و جہد اس کی اشاعت کا ذریعہ بنے گا۔شاریہ میں مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد ان کے ماننے والے دو گروہوں میں بٹ گئے۔ان میں سے اصل گروہ جو ابتداء معرض وجود میں آیا تھا قادیانی کہلاتا ہے اور ان کے دعوئی ماموریت پر ایمان رکھتا ہے، علیحدہ ہونے والے گروہ نے جو اس خیال کا حامی نہیں تھا لاہور میں اشاعت اسلام کے نام سے ایک انجمن قائم کر لی ہے۔آجکل دونوں جماعتیں دنیا بھر میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنے میں مصروف ہیں۔قادیانی جماعت کا جس نے افریقہ کو خاص طور پر اپنی توجہ اور جد وجہد کا مرکز بنا رکھا ہے ، دعوئی ہے کہ وہ اب تک وہاں ساٹھ ہزار منشی باشندوں کو اسلام میں داخل کر چکی ہے۔ے یہ وضاحت ضروری ہے کہ حضرت میں موعود علیہ اسلام کا ہمیشہ سے یہ مسلک تھا کہ کسی شخص سے متعلق انداری پیشگوئی کا اعلان نہیں کیا جاتا تھا جب تک اس سے اجازت حاصل نہ کر لی جائے اور گورنمنٹ کا بھی یہی منشا تھا۔مضمون نگار نے غالبا یہ غلط فہمی سے لکھا ہے، یہ اختلاف حضرت مسیح موجود کی وفات (۲۶ مٹی ) کے معا بعد نہیں ہوا بلکہ جماعت کے پہلے خلیفہ حضرت مولانا نور الدین بھیروی کی وفات (۱۳) ماست ۱۹۱۳ء) کے بعد ہوا ہے۔نیز جماعت ا کی لاہوری شارخ بھی حضرت اقدس کے دعوئی ماموریت کی ہرگز منکر نہیں۔