تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 286 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 286

۲۸۶ اسلام اپنے ابتدائی زمانہ عروج کے بعد صدیوں تک عرب تاجروں کے ذریعہ دنیا میں خاموشی کے ساتھ پھیلتا رہا، یہ عرب تاجہ ہی تھے جنہوں نے اسلامی تعلیم کو ہندوستان ، چین اور بالآخر انڈونیشیا تک پہنچایا۔حال ہی میں کچھ عرصہ قبل دنیا میں تبلیغ اسلام کی کوئی منتظم تحریک موجود نہ تھی مسلمانوں میں خدا اور بندے کے درمیان کسی اور کو واسطہ تسلیم نہ کرنے کے شدید جذبہ کی وجہ سے اسلام میں پاپائیت کبھی سر نہ اٹھا سکی۔ہر سلمان اپنے انفرادی ایمان کی بدولت اپنی ذات میں اسلام کے ایک مبلغ کی حیثیت رکھتا تھا۔تاہم اسلام خود اپنے جذبہ تفاخر کا اس رنگ میں شکار ہوتا رہا، کہ اس نے دوسرے معتقدات کی تحقیر میں نئے اور مجھی افکار و نظریات کے ساتھ علاقہ پیدا کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔لیکن موجودہ زمانے میں اب مسلمانوں کے اندر ایسے آثار ظاہر ہو رہے ہیں کہ جن سے ایک خاص رجمان کی نشاندہی ہوتی ہے اور وہ رجحان یہ ہے، کہ مسلمانوں نے بھی اب عیسائیوں کی تبلیغی تنظیم ! اس کے فنکارانہ اسلوب میں دلچسپی لینی شروع کر دی ہے حتی کہ قاہرہ کی المان مہر یو نیورسٹی بھی جسے اسلام کے ایک علمی مرکز کی حیثیت حاصل ہے اور جو مغربی اثرات کا شدت سے مقابلہ کرتی رہی ہے اب ہر سال بعض طلبہ کو اس غرض سے تیار کرتی ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کا فریضہ ادا کر سکیں۔مزید یہ آں اسلام کے معیضی دوسرے فرقوں میں بھی زندگی اور قوت کے آثار دن بدن نمایاں ہو رہے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ پیش پیش ایک نیا فرقہ ہے جو جماعت احمدیہ کے نام سے موسوم ہے۔اس کا صدر مقام پاکستان میں ہے اور یورپ، افریقہ ، امریکہ اور مشرق بعید کے ممالک میں اس کے باقاعدہ تبلیغی مشن قائم ہیں۔احمدیت کی تحریک گذشتہ نصف صدی کے اندر اندر ہندوستان میں معرض وجود میں آئی بعض دوسرے اسلامی فرقوں کی طرح اس کی ابتدا بھی غیر معمولی حالات میں ہوئی بن شاہ میں (حضرت مرزا غلام ! نامی ایک ریفار مرنے پنجاب میں قادیان کے مقام پر صاحب الہام ہونے کا دعوی کیا اور کہا کہ خدا تعالے نے ے یہ بھی مضمون نگار کا ذاتی تاثر ہے ورنہ اسلام نے کسی مذہب کے متقات کی تحقیر نہیں کی بلکہ صداقت کے پیش کرتے میں بھی ان کے احساسات کاخیال رکھا ہے اوربعض امورمیلا مشر توحید وغیرہ میں تو تعاون و اشتراک کی پیشکش نیک کی ہے۔در آل عمران : ۶۵) کے الازہر یو نیورسٹی کی طرف سے ابھی تک کوئی اسلامی منشن جاری نہیں ہوا۔