تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 262
میسج موعود کے اصحاب میں سے ایک ممتاز بزرگ حضرت حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک (ضلع گورداسپور) کے فرزند ارجمند تھے۔آپ پہلی مرتبہ حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر ۲۳ فروری ۹۲ اید کو گولڈ کوسٹ (فانا) تشریف لے گئے اور سات سال تک تبلیغی جہاد میں سرگرم عمل رہنے کے بعد 1919ء میں واپس قادیان تشریف لائے۔قیام افریقہ کے دوران ہی آپ کی والدہ فوت ہوگئیں۔واپسی پر آپ کی شادی ہوئی جس کے چند سال بعد فروری ۱۹۳۳ء میں آپ کو دوبارہ مغربی افریقہ بھیجا گیا جہاں آپ چودہ سال تک تبلیغ دین کے مقدس فریضہ کی ادائیگی میں مصروف رہے۔یہ زمانہ آپ کے لئے مسلسل جہاد کی حیثیت رکھتا تھا۔جس میں آپ نے اسلام کے کئی اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی یلغار کا نہایت بہادری اور جرات سے مقابلہ کر کے انہیں شکست فاش دی جس کے بعد ان علاقوں میں احمدیت کی بنیادیں پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہوگئیں۔اگر چہ اُسی زمانہ میں آپ کو اپنے والد ماجد کی وفات کا صدمہ بھی سہنا پڑا مگر اس نڈر اور جانباز سپاہی نے میدان جہاد کو چھوڑ کر واپس آنا گوارا نہ کیا۔چنانچہ آپ کے بھائی محترم ملک حبیب الرحمن صاحب رسابق ڈپٹی انسپکٹر آف سکولنہ سرگودھا ڈویژن نے ایک مرتبہ جناب مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری مرحوم کو بتایا کہ جہاں تک انہیں علم ہے حکیم صاحب نے کبھی حضرت مصلح موعود کی خدمت میں یا دفتر تبشیر کو اپنی وطن واپسی کی استدعا نہیں کی اور عماد کے آواخر میں جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ بڑھاپے میں قدم رکھ چکے تھے اور آپ کی اہلیہ محترمہ بھی ادھیڑ عمر کو پہنچ چکی تھیں اور بچے جوان ہو چکے تھے۔بایں ہمہ افریقہ سے مراجعت کے بعد بھی آپ زندگی کے آخری سانس تک نہایت اخلاص سے سلسلہ احمدیہ کی خدمات سبجا لاتے رہے۔چنانچہ مڑ کی ابتداء سے کچھ عرصہ تک آپ نے وکالت تبشیر اور نظارت دعوۃ و تبلیغ میں خدمات انجام دیں جس کے بعد حضرت مصلح موعود ہی نے آپ کو افسر لنگر خانہ و جہان خانہ مقرر فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ سلام کے جہانوں کی خدمت میں آپ نے اپنے سارے اوقات وقف کر دیے اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں اس درجہ محنت سے کام لیا کہ آپ ہائی بلڈ پریشر اور یرقان کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔بایں ہمہ کئی ماہ تک آپ مسلسل کام کرتے رہے اور بڑی مشکل سے بعض بزرگوں کے ه حال نظارت اصلاح و ارشاد