تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 261
۲۶۱ پہلی جماعت کی طرح کسی حد تک اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے۔جن کے ہندوکش ہونے کا تجھے دھوئی ہے اور جن کے کار ہائے نمایاں مخفی نہیں انہوں نے خدا کی راہ میں اسلام کی خاطر اپنی عزیز سے عزیزہ چیز ، جان و مال، عزیز و اقارب قربان کر دینے میں کوئی دریغ نہیں کیا۔اور جو کام ان کے سپرد ہوا، کما حقہ، انجام دیکر رضی اللہ عنہم کی تا قیامت دعائیں لیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔آپ اس جماعت کے کام کرنے کا وقت آیا ہے۔اس نے بھی خدا کے مرسل اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد باندھا ہے۔آؤ دیکھیں اس عہد کو پورا کرنے کے لئے ہم نے کیا کچھ کوشش کی ہے۔اس وقت ہم سے جانوں کا مطالبہ نہیں ہے۔اس جہاد میں صرف مالی قربانی کا مطالبہ ہے۔وہ بھی تمام مال نہیں اس میں سے کچھ حصہ بقدر سولہویں حقے کے۔اگر دیکھا جائے تو اس مالی قربانی کے مطالبہ کو پہلے نظائر کے پیش نظر قربانی کہنا ہی قربانی کی مہک ہے۔لیکن یہ خدا تعالیٰ کا مزید احسان ہے کہ ہماری اس حقیر سی مالی پیشکش کو قربانی قرار دے دیا گیا ہے" اولاد استیدہ بیگم صاحبہ دو سال کی عمر میں فوت ہوئیں )۔و۔انه ی ما از ویبره کرم محم وقیع الزمان خانصاحب ریٹائرڈ بریگیڈیرو انتر می رسان -۳- عبدالشکور خانصاحب دوفات مارچ ۱۹۵۳ بعمر ۲۴ سال )۔لم عبد المنان خان صاحب - جناب حکیم فضل الرحمن حساب مبلغ مغربی افریقیه الحاج حکیم فضل الرحمن صاحب جماعت احمدیہ کی طرف سے افریقہ بھیجے جانے والے دوسر خوش قسمت مجاہد احمدیت تھے جن کو ارض بلال میں کم و بیش اکیس سال تک خدمت دین کی توفیق ملی۔آپ حضرت لے رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد به قادیان بابت له الفضل ١٠ جنوری ١٩٦ء ٣۔