تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 256
۲۵۶ میں ہی بوڑھے ہو گئے ہیں۔۲۶ مارچ ۱۹۳۶ء کو جلسہ خلافت حویلی کے پروگرام کی تکمیل کے لئے ایک سب کمیٹی مقرر ہوئی جس کے ایک ممبر آپ بھی تھے۔اس سب کمیٹی کی تجاویز مشاورت ۱۹۳۹ء میں پیش کی گئیں جن پر حضرت مصلح موعود نے فیصلہ جات فرمائے۔اور انتظامات کی سرانجام دہی کے لئے پانچ رکنی کمیٹی مقرب فرمائی۔جس کے صدر چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب تھے اور ایک ممبر آپ بھی تھے۔یہ نتظارت بیت المال میں ۱۷ سال کام کرنے کے بعد ا ء میں آپ کا تبادلہ ہوا اور آپ ناظر دعوت وتبلیغ مقرر ہوئے۔یکم نومبر یو کو ۶۰ سال کی عمر ہو جانے پر حسب قواعد صدر انجمن احمد یہ آپ ریٹائر ہوئے۔لیکن چارج دینے کے دوسرے ہی روز حضرت مصلح موعود نے آپ کو تحریک جدید میں وکیل التبشیر مقرر فرمایا۔تقسیم ملک پر جب صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر پاکستان آئے تو اول لاہور میں اور بعد ازاں ربوہ میں آپ بیک وقت ناظرہ عوت و تبلیغ اور وکیل التبشیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔جن سے نشاء میں آخری مرتبہ سبکدوش ہوئے تیه مئی شعراء میں آپ شدید بیمار ہوئے اور وار اگست ۱۹۵۵ء کو آپ میو ہسپتال لاہور کے امر تسر دارد (مغربی سرجیکل) میں داخل کئے گئے ہیے اسی دوران آپ نے مولوی عبد الکریم صاحب دہر حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب حلال پوری) کے ذریعہ یہ پیغام بھجوایا کہ " میرے تمام بھائیوں کو کہہ دیں کہ ممکن ہے کہ آپ یہ میرا آخری سفر ہو۔اور کہیں آپ لوگوں سے آب نہ مل سکوں اس لئے اگر مجھے سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو مجھے معاف کر دیں اور میرے لئے دعائیں کرتے رہیں ہے آپ ہم ستمبر شیر کو انتقال کر گئے۔در ستمبر ۵۵اء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب امیر مقامی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے له الفضل ۲ جولائی ۱۹۲۳ء ص ۶ - سه روئیداد عجله خلافت جو بلی از حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد ناشر مینجر بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان سے الفضل - ار جنوری ۹۷ ر مت له الفضل و ستمبر هشدار مث۔شبه الفضل ۳۰ را گست ۱۵۵ راء مث - له الفضل ۶ ستمبر ۵۵ ما۔