تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 257 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 257

۲۵۷ حضرت مصلح موعود کا خراج تحسین حضرت مصلح موعومر نے ۲۳ ستمبر ۱۹۵۵ء خطبہ جمعہ میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔مولوی عبد المغنی خانصاحب بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی زمانہ میں اپنی زندگی وقف کی۔وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قادیان میں ہجرت کر کے آگئے۔اور پھر وفات تک مرکتہ میں ہی رہے۔اور سلسلہ کے مختلف عہدوں پر نہایت اخلاص اور محبت کے ساتھ کام کرتے رہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر تحریر حضرت مرزا بشیر احمد صات کانوٹ فرم فرمایا :- مولوی صاحب مرحوم غالباً حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ۱۹۱۲ ء میں اپنے وطن قائم گنج ضلع فرخ آباد یوپی سے قادیان ہجرت کر کے آئے تھے۔اور پھر ملکی تقسیم کے بعد تک مسلسل خدمت سلسلہ میں مصروف رہے۔نہایت مخلص اور صاحبہ اور شا کہ بزرگ تھے۔نمازوں کے انتہا درجہ پابند اور نماز با جماعت کے دلی شائق تھے۔صاحب کشف و رویا بھی تھے مگر اس کا ذکر کم کرتے تھے حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ مبصرہ العزیز کے ساتھ نہایت در تبر اخلاص رکھتے تھے۔اور سلسلہ کی ہر چھوٹی بڑی خدمت کو بڑی توجہ اور سرگرمی سے ادا کرتے تھے۔ملکی تقسیم کے بعد انہیں اُوپر تھے دو جوان بچوں (ایک لڑکی اور ایک لڑکے) کی وفات کا صدمہ پہنچا۔مگر اس بندہ خدا نے اس صدمہ پر اتنے صبر سے کام لیا جو اسی کا حصہ تھا۔ان کے جواں سالہ لڑکے کی وفات اُن ایام میں ہوئی۔جب حضرت صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔وہ اس کا جنازہ لاہور سے ریوہ لا رہے تھے کہ ایک عزیز نے جسے اس کی وفات کا علم نہیں تھا۔ان سے بچہ کی خیریت پوچھی مولوی صاحب نے جواب میں کہا پہلے حضرت صاحب کی خیریت بتاؤ اور جب یہ معلوم ہوا کہ حضور خیریت سے ہیں تو بلند آواز سے الحمد للہ کہا۔اور اس کے بعد پوچھنے والے کو بتایا کہ بچہ کا جنازہ لا رہا ہوں۔مولوی صاحب مرحوم شروع میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ٹیچر رہے اور کچھ عرصہ بعد جب نظارت میں له روزنامه الفضل ۲۲ راکتور ۱۹۵۵ مت