تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 238
جائے۔اس پر وہ لوگ مایوس ہو گئے اور کئی مخالفت پر آمادہ۔یہ خود بھی اس صورت حال سے بیزار تھے۔اور دل سے چاہتے تھے کہ قادیان دار الامان ہجرت کر جاؤں۔چنانچہ یہ سجادہ نشینی اور پیری مریدی کا قضیہ نا مرضیہ اور سینکڑوں بیگھر زمین معافی والی اور دوسری جائیداد منقولہ و غیر منقولہ چھوڑ کر قادیان آگئے۔یہ حضرت خلیفة المسیح اولی رضی اللہ عنہ کا زمانہ تھا۔یہاں چند سال تو رجاؤ لی جا کہ مزار مین سے بٹائی وغیرہ لے آتے۔اور اس پر کشائش سے گزارہ کرتے مگر پھر یہ صورت نہ رہی تو درویشانہ زندگی اختیار کر لی تنہا نہیں تھے۔جوہی بچے بھی ساتھ تھے۔تنگ دستی بڑھی تو دفتر میں مدد گار کارکن ہونا اختیار کو لیا۔جس کی تنخواہ اس وقت دس گیارہ روپے سے زیادہ نہ تھی۔زیادہ تر مقبرہ بہشتی کے دفتر کی ملازمت پسند کرتے۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بھی برسوں قدمت بجا لاتے رہے۔وہاں زیادہ خوش تھے اور ہر قسم کی مشقت و محنت برداشت کرتے کیونکہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ الہ تعالی کی ذات ستودہ صفات سے انتہائی عقیدت رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔۔میرے سامنے ان پر کئی مشکل وقت آئے مگر وہ ہمیشہ صابر اشنا کہ رہے اور کبھی شکوہ شکایت زبان پر نہیں لائے۔فسادات ۹۴۷اہ کے زمانے میں ان کے اہل و عیال تو لاہور آگئے۔ایسے ہی میرے بھی۔وہ میرے مکان پر آگئے اور کہا الحمد للہ آپ کی خدمت کا مجھے موقع ملے گا جس کی نہیں دیرینہ خواہش رکھتا ہوں۔میں نے معلوم کیا کہ وہ رات کو ۱۲ بجے تک تو بہ آمدے میں ٹہلتے رہتے اور درود و استغفار، ذکر و اذکار میں اور پھر حسب معمول تین بجے سے کچھ پہلے اٹھ کر نماز تہجد پڑھتے رہتے۔اذان فجر تک۔اور یہ ان کی پرانی عادت تھی۔۔۔۔۔جب ریوہ کی بنیاد پڑی تو سید علی احمد صاحب بغیر اپنی معیشت و جائے رہائش کا خیال کئے من يهاجر فى سبيل الله يجد فى الأرض مراغمًا كثيرًا وسعہ پڑھتے ہوئے دیوہ پہنچ گئے اور اپنی بقیہ عمر عشر کی حالت میں بطیب خاطر گزار دی، غفر الله له له آپ کو خلافت اور مرکز سے والہانہ محبت تھی اور باوجود تنگی ترشی کے مرکز سلسلہ سے باہر جانا گوارا نہیں تھا۔آخری بیماری میں کئی دوستوں نے ربوہ چھوڑنے کا مشورہ دیا۔مگر آپ کا ایک ہی جواب تھا اور وہ یہ کہ ساری عمر تو خلیفہ وقت کے قدموں میں گزار دی۔اب آخری نظر میں دنیا کی ۱۹۲ تا ۱۳۵ او دو الفضل ۱۰/ نومبر امت له الفضل ۲۷ نومبر ۱۹۹۵ مت