تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 239
۲۳۹ خاک چھاننے کے لئے کس طرح باہر چلا جاؤں حضرت مصلح موعود بھی آپ پر ہمیشہ نظر شفقت رکھتے تھے۔چنانچہ اپنی جیب خاص سے حضور نے تجہیز و تکفین کا بندوبست فرمایا اور پھر خود ہی وصیت کے بقایا جات ادا کر کے انہیں موصیوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا ارشاد فرمایا ہے اولاد آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری تجھے پشتوں میں ہر ایک کا ایک ہی لڑکا ہوتا رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی برکت سے آپ کو سات لڑکے اور آٹھ بیٹیاں عطا کیں جن کی تفصیل یہ ہے :- د از اطلبیه اقول لطیف انساء بیگم صاحبہ ) سیده آمنه بیگم صاحه بسیده محمد بیگم صاجه رسیده مبارکه بیگم صاحبہ سید اعجاز احمد صاحبر ہے۔ستیده عارفه بیگم صاحبه استید امتیاز احمد صاحب ، سیده رضیہ بیگم صاحبہ (مرحومه۔د از الیہ ثانی محصور النساء بیگم صاحبه ) سید میمونه اول (مرحومہ) سید سجا د احمد صاحب سیدہ میمونه صاحبه (ثانی) بستید میر احمد خلیل صاحب بستیده ساجدہ بیگم صاحبہ بستید تنویر احمد صاحب سید شاہ میراحمد صاحب بستید تبشیراحمد صاحب و حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد د ولادت ۱۹ ز خون شهداء بمقام لدھیانہ - وقات ، دسمبر دارد آپ کے والد ماجد حضرت ماسٹر قادر بخش صاحب اولادت ۱۶ را گست شماره - جمعیت ۶۸۵۲ وفات دار جولائی ۱۳) سید نا حضرت مسیح موعود کے نہایت مخلص یکرنگ اور قدیم عشاق میں سے تھے۔جنہیں حضور کے ۳۱۳ اصحاب کبار میں شمولیت کا شرف حاصل تھا حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری جنہیں اپنے اخلاص ، خصوصی خدمات اور سُرخی آسمانی نشان کے عینی شاہد کی حیثیت سے تاریخ احمدیت میں ایک خاص مقام حاصل ہے ، آپ کے پھوپھا تھے۔آپ نے احمدیت کی آغوش میں تربیت پائی۔بچپن له الفضل۔نومبر شاءت کے انسپکٹر بیت المال ربوہ۔کے تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو الحکم ستمبر ہر دم از قلم مولانا عیاری اور آپکا یا نام رحیم بخش تھا