تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 237 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 237

۲۳۷ جاد نماز پر مسجد مبارک میں ایک جانب کھڑے ہونا بھی یاد ہے۔سیر کے لئے جانا بھی یاد ہے۔حضور کے چہرہ مبارک کو میں ٹکٹکی لگائے دیکھا کرتا تھا اور اسی میں محور رہا۔اور حضور کا میری طرف دیکھنا بھی یاد ہے۔خاکسار علی احمد عفا اللہ عنہ ہی سم۔در توام میرا نکاح اول حضرت خلیفہ المسیح اول نے قادیان میں پڑھائیں حضرت خلیفة المسیح الثانی سیدنا امیرالمومنین کی ولایت سے واپسی پر نہیں ہجرت کرکے دارالامان نے واپسی پر دارالامان میں آگیا۔علی احمد عفا اللہ عنہ میرا حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے آپ کی وفات پر لکھا کہ :۔is وہ میرے رفیق قدیم تھے ان سے پہلے پہل مجھے 194 ء میں تعارف ہوا جب میں اخبار" بدر قادیان میں کام کرتا تھا اور وہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے پاس ایک پرچہ پر تازہ وحی حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسّلام کے قلم مبارک رقم سے حسب معمول لکھی ہوئی بدر میں شائع ہونے کے لئے لائے پھر جب کا تب لکھ چکا اور کاپی پریس میں لے جائی گئی اور پروف نکلا تو حضور علیہ السلام کے ملاحظہ کے لئے انہی کے ہاتھ بھیجا گیا۔دریافت کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ ان کی قریبی رشتہ دار اندرون خانہ سیدہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں رہتی ہے۔اس لئے ان کو یہ سہولت اور یہ فخر حاصل ہے، اور ابھی بچے ہیں۔بستی کے مشہور ومعروف افغان خاندان کے افراد مہاراجہ پٹیالہ کی مختلف خدمات پر مقرر تھے انہی میں سے ایک مخلص احمدی امام علی صاحب کی بیٹی ان کے رشتہ مناکحت میں آئی۔ان کے والد براڑہ سے دو تین میل دور ایک بسنتی رجاؤ لی نام ایک خانقاہ کے متولی تھے جس کے ساتھ بیسیوں بیگھہ زمین معافی کی ان کے نام تھی اور وہ گدی نشین تھے اور ہزاروں مریدوں اور معتقدین کے مرجع تھے والد کی وفات پر یہی استید علی احمد صاحب، جانشین ہوئے چونکہ یہ احمدی تھے اور نہایت مخلص اور والہ دشہدائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، انہوں نے اعلان کر دیا کہ نہیں یہاں کوئی خلاف شریعت اسلامیہ امر نہ خود کروں گا نہ ہونے دوں گا۔رقص و سرود اور دیگر بدعات میکسر موقوف۔آپ آئیں ہیں علامہ فضلی منگوا کہ ان کا وعظ کراؤں گا۔آپ لوگوں کی دعوت بدستور ہوگی۔گھر کوئی غیر تشریع کارروائی روا نہ رکھی اء والفضل دار نومبر راء )۔۲- " روایات صحابہ بغیر مطبوعہ جلدث شنا