تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 222
۲۲۲ " مسعود احمد صاحب بی اے واقف زندگی نے کچھ کلام اور مضامین تجمع کئے لیکن وہ شاہد کے ہنگامہ کی نذر ہوئے۔جو بیچا وہ اس وقت ہزاروں میل دور میرے پاس نہیں۔ورنہ بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ساتھ آپ کا عشق مندرجہ ذیل اشعار سے ظاہر ہوتا ہے:۔شرف ہے سر کو میرے بھی مسیح کی چوکھٹ کا اکیلا ایک تو اے سنگ آستاں ہی نہیں ہیں آستان مبارک کے ان گنت خادم اکیلا دتی کا آسان خستہ جاں ہی نہیں کیا کم شرف ہے احمد مرسل کا ہوں غلام : آسان لاکھ دنیا کہے تم غریب ہو حضرت ماسٹر محمد من صاحب آسان نه صرف نظام الوصیت سے وابستگی کا شرف رکھتے تھے۔بلکہ نہیں ہونے سے بحیثیت نمائندہ دہلی مجلس مشاورت میں سال ہا سال تک شمولیت کی سعادت بھی نصیب ہوئی حضرت مصلح موعود یکم مارچ ۱۹۳۳ء کو دہلی تشریف لے گئے۔14 مارچ ۱۹۳۶ء کو رتال کٹورہ پارک میں جماعت دہلی و شملہ کی ایک مشترکہ تقریب میں حضور نے تقریہ بھی فرمائی اور حضور کی بابرکت معیت میں دہلی اور شملہ کے مخلص احمدیوں کا فوٹو بھی لیا گیا۔جس میں آپ بھی شامل تھے۔یہ تاریخی فوٹو تاریخ احمدیت جلد مفتم صفحه ۲۵ پر شائع شدہ ہے۔۱۹۲۳ حضرت آستان دہلوی صاحب ء میں دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے تھے اور لاہور میں مقیم تھے مگر اپنی وفات سے پانچ ماہ قبل اپنے بڑے بیٹے میاں محمود احمد خانصاحب نائب امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی کے پاس آئے ہوئے تھے اور یہیں آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔۲۰ اگست ۱۹۵۵ء کو مولانا جلال الدین صاحب شمس نے نماز جمعہ کے بعد آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ موصیوں کے قبرستان میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قطعہ میں سپرد خاک کئے گئے اور دیگر بزرگان سلسلہ و احباب کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب امیر مقامی اور مولانا جلال الدین صاحب شمس نے جنازے کو کندھا دیا اور قبر تیار ہونے پر اجتماعی دعا میں شریک ہوئے۔دُعا حضرت صاحبزاد مرزا ناصراحمد صاحب نے کرائی۔آپ کے وصال پر جماعت کے مختلف حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء ص۳