تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 221
٢٢١ میں کام کر تا رہا۔اور کوئی زمانہ خالی نہیں رہا۔جبکہ اس کے دعوے دار نہ ہوں۔مثال کے طور پر ائمہ سلف اور صوفیاء کیار کے حوالے پیش کئے۔جیسے حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا۔دمبدم روح القدس اند مینے مے وید: من نے گولیم مگر عیبی ثانی نشدم اس پہ خواجہ حسن نظامی صاحب مرحوم بھی داد دینے لگے۔چونکہ اُن کے پیرو مرشد کا بھی ذکر ہو گیا تھا۔والد صاحب کی تقریر کے بعد انہوں نے کہا کہ بہائیوں کو اس کا جواب دینا چاہئے۔اگر اُن کے پاس صداقت ہے۔ورنہ قرآن اور اسلام کا اثر زائل نہیں ہوا۔تعلق باللہ کا دعوی کرنے والے اسلام میں موجود ہیں بستر و مدار بڑی سراسیمہ ہو ئیں۔اور کہنے لگیں نہیں مناظر نہیں۔البتہ ہمارے عالم محفوظ الحق صاحب علمی اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔والد صاحب نے اُسی وقت للکارا ہمی میدان، و سمی چوگان و ہمی گوئے محفوظ الحق صاحب علمی بولے کہ ہم تو تحریک بہائیت کی تاریخ بیان کرنے آئے تھے مناظرے کے لئے نہیں۔والد صاحب نے کہا، تو پھر اسلام اور قرآن پر کیوں حملہ کیا تھا۔تاریخ بہائیت تک ہی نفر یرہ کو محدود رکھا جاتا۔اسلام پر حملہ کرو گے تو جواب بھی شنا پڑے گا۔۔۔۔۔اپنی نظموں میں احمدی عقائد نہایت سادگی کے ساتھ بیان کہ جاتے تھے مشکلاً :- مکان فلک کو میں سمجھے مکین میلے کو مکین کا رہنا کجا وہ مکان مکاں ہی نہیں ہے آج کون تم میں جو جرات سے یہ کہے : اسلام زندہ ہوتا ہے میٹی کی موت سے تغزل کے اندازہ میں کہا : جس پہ ہم شیدا ہوئے ہیں وہ تو دلبر اوہ ہے : جس کے ہم مارے جو ہیں وہ تمگر اور ہے تیغ آب بے کار تیری ہوگئی آئے مولوی ہے جس سے کٹتا گھر ہے اب وہ تو خنجر اور ہے ایک غیر احدی شاعر نے دلی میں احمدیت کے خلاف ایک نظم شائع کی۔اُس کا جواب طویل مستدکس میں دیا۔اُس کے کل ۴۸ بند تھے۔اور ٹیپ کا بند تھا در کے سینے قادیاں جان و دلم به تو ندا : تو نے پھر اسلام کو دُنیا میں زندہ کر دیا تمام نظم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور آپ کے نشانات کو بڑے زور کے ساتھ پیش کیا۔اور مخالفین کی ہر رنگ میں ہزیمت کی مثالیں نظم کیں۔اور پھر اس کو اپنے خرچ پر کتابی صورت میں شائع کیا۔اُن کو اپنے اشعار، افسانے اور مضامین جمع کرنے کا شوق نہ تھا۔بڑی مشکل سے برادر معظم جناب