تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 223 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 223

۲۲۳ حضرت مصلح موعود کے خطبہ بہ میں ذکر سیدنا حضرت علی موعود اُن دنوں یورپ میں تشریف فرما تھے۔یورپ سے واپسی پر حضور نے ۲۳ ستمبر 2ء کو کراچی میں خطبہ جمعہ کے دوران آپ کا ذکر نہایت شاندار الفاظ میں کیا۔اور آپ کے اس جذبہ کو کہ آپ نے اپنے بیٹوں کو خدمت دین کے لئے وقف کیا، بہت سراہا اور اس پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا :- یکی نے جب وقف کی تحریک کی تو گو سینکڑوں مالدار ہماری جماعت میں موجو دتھے۔مگران کو یہ توفیق نہ ملی کہ وہ اپنی اولاد کو خدمت دین کے لئے وقف کریں لیکن ماسٹر محمد حسن صاحب آسان نے اپنے چار لڑکے اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر دیے جن میں دو بیٹے ان کی وفات کے وقت پاکستان سے باہر تھے۔ان میں سے ایک ویسٹ افریقہ میں وائس پرنسپل ہے اور ایک لندن منش کا انچارج اور انگلستان میں ہمارا مبلغ ہے۔ان کے سات بچے تھے اور وہ غریب آدمی تھے۔انہوں نے اپنے خرچ پر انہیں گریجوایٹ کرایا اور پھر سات میں سے چارہ کو وقف کر دیا۔ان میں سے ایک لفضل کا ایڈیٹر ہے۔ایک لنڈن مشن کا انچارج ہے۔ایک ویسٹ افریقہ میں وائس پرنسپل ہے۔اور ایک کہ اچی میں تحریک جدید کی تجارت کا انچارج ہے۔ان سارے لڑکوں کو انہوں نے بی۔اے یا ایم اے اپنے خرچ پر کرایا۔سلسلہ سے انہوں نے کوئی رقم نہیں لی۔انہیں یہ کبھی خیال نہ آیا کہ ہمیں ایک غریب آدمی ہوں۔اگر میرے بیٹے پڑھ کر اعلی ملازمتیں حاصل کر لیں تو ہمارے خاندان کا نام روشن ہو جائے گا۔انہوں نے روشنی صرف اسلام میں دیکھی اور اپنے لڑکوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔عرض ہماری جماعت میں ایسی مثالیں تو موجود ہیں جو جماعت کی عزت کو قائم رکھنے والی ہیں۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ سوائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کے اور یا پھر میری اولاد کے اور کسی جگہ سے ہمیں واقف زندگی نہیں مل رہے کبھی کبھی تو جب میں اس حالت کو دیکھتا ہوں اور مجھے ڈر آتا ہے۔کہ کہیں میری اولاد بھی کسی وقت دوسروں کو دیکھے کہ دین کی خدمت سے منہ نہ پھیرے۔تو میرے دل میں جوش آتا ہے کہ میں اللہ تعالٰی سے دعا کروں کہ الہی مجھے صرف ایسی اولاد کی ضرورت ہے جو تیرے دین کی خدمت گذار ہو۔تو مجھے ایسا دن نہ دکھا ئیو کہ تیرے دین کو قربانی کی ضرورت ہو اور میرے بیٹے اس کے لئے تیار نہ ہوں اور اگر کوئی ایسا دن آنے والا ہو تو تو بڑی خوشی سے