تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 210
۲۱۰ خصوصی تذکرہ کیا ہے۔کراچی سے شائع شدہ " شجرہ شریف پیران نظام خاندان عالی چشتی نظامی نخورید کے مطابق حضرت شاہ صحبت اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند حضرت مولوی محمود الحسن خان صاحب کو اوائل میں ہی جہدئی دوراں وسیع الزمان کے دامن سے وابستگی کا شرف نصیب ہوا۔چنانچہ قدیم رجسٹر بعیت میں آپ کی بعیت کا نمبر ۲۲۴ اور تاریخ بعیت 4 مٹی شار درج ہے۔اور آپ کا پتہ اِن الفاظ میں دیا گیا۔" مولوی محمد حسن خان صاحب ولد وزیر محمد خان ساکن کھد بالی علاقہ دہلی حال مدرس موضع جھنا نوالی علاقہ پٹیالہ " واقعہ بیت حضرت مولوی محمد حسن خانصاب حضرت ماسٹر مر من صاحب آسان دعلوی محمد حسن ا د خلف الصدق حضرت مولانا محمود الحسن صاب) آپ کے واقعہ بیعت کی تفصیل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں :- والد صاحب فرماتے تھے کہ اگر چہ مجھ کو ایام جوانی میں صوفیاء کے گروہ سے کوئی خاص عقیت حاصل نہ تھی لیکن اُن کے والد صاحب کو اس قدر عشق الہی تھا کہ ہر وقت و ہر لحظہ روتے رہتے تھے۔یہ اسی عشق الہی کی برکت ہے کہ مجھ کو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے خدام میں شامل ہونے کا شرف نصیب ہوا۔دور نہ جوانی میں نیچریانہ خیال رکھتا تھا۔نماز روزے کی طرف کوئی رغبت نہ تھی، ایسی حالت میں بغیر ذاتی نیک اعمال کے کسی مخفی تصرف الہی کے ذریعہ صحابہ کی جماعت میں شامل ہو نا خدائے ذوالجوان آپ مشہور عالم دین مولوی محمد جعفر تھانیسری کے سمدھی تھے۔آپ کی ایک بیٹی ہاجرہ خانم مولوی تھا نیری صاحب کے چھوٹے بیٹے مولوی محمد عثمان سے بیاہی ہوئی تھیں۔اسی طرح مشہور مصنف اور نعت نویس مولوی سید احمد صات و پلوی (مولف فرہنگ آصفیہ) سے بھی آپ کی عزیز داری تھی۔آپکے ایک بھتیجے ان کے نہایت قریبی عزیزوں میں بیا ہے ہوے تھے۔نه مولوی سید اقبال علی صاحب قائم مقام سب جج اور اپنی کتاب " سید احمد خان کا سفر نامہ پنجاب کے صفحہ ۳۷۸ پر لکھتے ہیں۔" حضرت مولوی محمد حسن خانصاحب ایک بہت بڑے عالم اور فاضل بزرگ پٹیالہ کے ایک مدرسہ میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔باوجود مولوی ہونے کے نہایت روشن خیال شخص تھے۔اُس وقت جبکہ مرستید پر ہر طرف سے کفر کے فتوؤں کی بھر مار ہو رہی تھی وہ سرسید کی تعلیمی تحریک کے نہایت مؤیہ اور حامی تھے۔الم " (مطبوعہ شد، ابو علی گڑھ انسٹیٹیوٹ پریس)۔