تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 10
میں آیا۔ازاں بعد حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلی صدر امین احمدیہ نے مجلس مشاورت ۱۹۵ء کے فیصلوں کی تعمیل پرمشتمل مفصل رپورٹ سُنائی۔آپ کے بعد سیکرٹری مجلس مشاورت نے رپورٹ اضافہ بجٹ - ۹۵۳ نہ پڑھ کر سنائی۔یہ رپورٹ سُنائی جا چکی تو صدر مجلس کی ہدایت پر حضرت مولوی محمد دین صاحب ناظر دعوت و تبلیغ سٹیج پر تشریف لائے اور سب کمیٹی نظارت دعوۃ و تبلیغ و بہشتی مقبرہ کی رپورٹ پیش فرمائی جس میں ایجنڈا کی تین تجاویز زیر غور آئیں :- ۱ - امراء اور مبلغین کے باہمی تعلقات - ۲ - پروگرام جلسہ سالانہ میں تغیر و تبدل۔بہشتی مقبرہ میں کسی علیحدہ قطعے کامیاں اور بیوی کے لئے مخصوص کیا جانا۔اس اجلاس میں سب کمیٹی اور نمائندگان کی توجہ اور پپسی کا مرکز پہلی تجویز رہی جس کے دوران صدر انجمن احمدیہ کا قاعدہ ۱۹۳۵ ۶۸۱ - الف اور حضرت مصلح موعود کا ارشاد مبارک مطبوعه اخبار افضل ۲۶ مارچ ۱۹۴۶ خاص طور پر پیش کیا گیا۔ان ہر دو کی عبارت ذیل میں فقتل به را کی جاتی ہے :۔نقل قاعده عل ۸ ۶ الف صدر انجمن احمد جب کسی مبلغ کو مرکز کی طرف سے کسی جگہ مقر کیا جاوے یا بھیجا جا ہے تو وہ مرکز کا نمائندہ ہوگا اور اس کے فرائض میں یہ بھی شامل ہوگا کہ وہ مقامی کارکنوں کو مرکزہ کی ہدایات کی طرف توجہ دلائے لیکن اس کا فرض ہو گا کہ حتی الوسع مقامی امیریا پریذیڈنٹ سے مشورہ کر لیا کرے۔اگر مبلغ کیسی مقامی عہدیدار کے طریق کار کو قابلِ اصلاح سمجھے تو اسے چاہئیے کہ مقامی امیر یا پریذیڈنٹ کے واسطہ سے اصلاح کرائے مبلغ کو حق ہو گا کہ مقامی انجمن یا مجلس میں حاضر ہو کر مشورہ میں شریک ہو مگر وہ ووٹ نہیں دے سکتا۔اگر مبلغ اور امیر یا پریذیڈنٹ میں اختلاف ہو تو اس کا فیصد مرکز کی طرف سے ہو گا مبلغ کو ہر قسم کی مقامی پارٹی بازی سے مجتنب رہنا ہو گا۔خاص حالات میں کیسی بڑی اور اہم جماعت کے متعلق ناظردعوت و تبلیغ کو اختیار ہوگا کہ مبلغ کو یہ ہدایت دے کہ وہ مقامی امیر یا پریذیڈنٹ کی ہدایات کے