تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 11
ماتحت کام کرے “ کے ارشاد مبارک حضرت مصلح موعود سلسلہ جن کو نمائندہ بنا کر بھیجے مقامی جماعت کے وہ لوگ جن کی آمدنیاں زیادہ ہوں وہ اس کو ملانوں کی سی حیثیت دے دیں اور وہ ماتحت کی حیثیت میں رہے غلط بات ہے اسے ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے جو ہمارا نمائندہ ہو کر جائے گا وہی افسر ہوگا دوسرا خواہ لاکھ روپے کماتا ہو وہ اس کا ماتحت ہو گا۔کمائی کی وجہ سے اپنے آپکو بڑا سمجھنا ویسی ہی بات ہے جیسے عبد اللہ بن ابی سلول نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا تھا کہ مدینہ کا معزز ترین شخص ذلیل ترین شخص کو مدینہ سے نکال دے گا۔بہر حال سلسلہ کا نمائندہ دنیوی دولت مندوں سے زیادہ معزز ہے اور مقامی لوگوں کو اس کا ادب اور احترام کرنا ہوگا اگر وہ نہیں کریں گے تو فتنہ کا موجب ہوں گے اور اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔یہ ہم نہیں کہتے کہ ہمارا نمائندہ غلطی نہیں کر سکتا اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نمائندے سے پرسش نہیں ہوگی وہ غلطی بھی کر سکتا ہے اور پرسش بھی ہوگی اور اس کے مجرم کے مطابق اسے سزا دی جائے گی لیکن سب کچھ آئین کے مطابق ہو گا افراد کو کوئی حق نہیں کہ اپنا فیصلہ کر کے حکومت جتانا چاہیں اسلام ناواجب حکومت کے بھی خلاف ہے اور وہ نشوز کے بھی خلاف ہے۔حضرت مولوی محمد دین صاحب نے سب کمیٹی کی رپورٹ میں صدر انجمن احمدیہ کے مندرجہ بالا قاعدہ اور ارشاد حضرت مصلح موعود کا خاص طور پر ذکر کیا۔ان ہر دو تحریرات کے سنائے جانے کے بعد سب کمیٹی میں گھل کر تبادلۂ خیالات ہوا جس میں متعددممبروں نے حصہ لیا۔اس سلسلہ میں چوہدری انورحسین صاحب بی۔اے ، ایل ایل بی وکیل و امیر شیخوپورہ نے اس امر کی تائید کی کہ مبلغین حسب دستور مرکز کے ماتحت ہی رہنے چاہئیں کیونکہ اول تو تمام جماعتوں کی تعلیمی استعدا رپورٹ مجلس مشاورت منعقده ، تا ۱۹ اپریل ۹۵اه صن الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۴۶ ص : Pa۔۔۔۔