تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 207
۲۰۷ تھا۔مولوی قطب الدین صاحب معاویہ اور علی کی باتیں کر رہے تھے کہ والد صاحب نے دونوں کو روک دیا اور فرمایا کہ آج جمعہ ہے تمام لوگوں کے سامنے باتیں کرو۔چنانچہ جمعہ کے لئے لوگ جمع ہوئے، اور مولوی عبدالصمد صاحب نے خطبہ جو شروع کیا۔اس خطبہ میں بھی وہ محب اللہ اور بعض اللہ کے الفاظ بار بار کہتا تھا، اور حضرت صاحب کے خلاف بھی کچھ اُس نے کہا۔۔۔۔۔مولوی قطب الدین صاحب میرے والد صحاب کے پاس آئے اور کچھ کان میں کہ کہ پھر واپس اپنی جگہ چلے گئے جب وہ نماز کے لئے آگئے مصلیٰ پر کھڑا ہونے لگے تو مولوی صاحب نے کہا کہ ران مولوی صاحب کے پیچھے میری نمانہ نہیں ہو سکتی۔اس پر میرے والد صاحب نے نماز پڑھائی۔نماز کے بعد متوفيك پر سحت ہوئی۔مولوی عبد الصمد صاحب نے دوران مبحث پانی مانگا اور بدحواس سے ہو گئے۔اِس پر گاؤں والوں کو محسوس ہوا کہ وہ جھوٹے ہیں۔اور احمدیت کی طرف اِن کا رجوع ہوا۔اس وقت تک گاؤں میں کوئی احمدی نہیں تھا۔اس گفتگو کا بھی مجھ پر خاص اثر ہوا۔میرے والد صاحب کی وفات 9ء میں ہوئی۔ان کی وفات کے مقابعہ حضرت اقدس کی طرف سے ان کے نام رسالہ واقع السلام آیا جو میں نے وصول کیا۔مرض الموت میں والد صاحب نے مجھے وصیت کی تھی کہ مخالفت نہ کرنا اور بان لینا اس وقت تک ہمارے گاؤں میں کوئی احمدی نہ تھا۔جب حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لے گئے تو گھٹیالیاں میں چونکہ احمدیت کے متعلق ایک رو پیدا ہو چکی تھی۔اس لئے یہاں سے سترہ اٹھارہ آدمی گئے تھے۔اور قریبا سب نے بیعت کرلی تھی۔بعیت کا واقعہ یوں ہے کہ جس روز حضرت اقدس نے سیالکوٹ جانا تھا۔اس سے ایک روزہ پہلے ہم گئے تھے۔۔۔۔۔حضرت صاحب کی آمد آمد تھی۔اس لئے عصر کے وقت ہی تمام شہر کے معززین اور مضافات کے لوگ جوق در جوقی سٹیشن پر جانے گئے۔ہم بھی پہنچ گئے حضور کی گاڑی شام کے وقت اسٹیشن پر پہنچی اور جس ڈبہ میں حضور تھے۔اسے کاٹ کر راجہ کی سرائے کے پاس لے جایا گیا۔حضور ایک فٹن پر سوار ہوئے : دو رویہ قطاروں میں لوگ کھڑے تھے اور پولیس گشت کر رہی تھی حضرت صاحب کے پاس ایک شخص لیمپ لے کر کھڑا تھا اور کہتا تھا کہ یہ مرزا صاحب ہیں۔بعد میں وہ شخص مجھے ملا اور احمدی ہونے کی وجہ سے اُس سے واقفیت ہوگئی۔وہ حکیم عطا محمد صاحب گودھ پور والے تھے۔راد یہ ۲۷ اکتوبر ۱۹ کا واقعہ ہے۔