تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 208
وہاں مولوی عبدالکریم صاحب نے جمعہ کی نماز پڑھائی میں بالکل حضرت صاحب کے پاس کھڑا تھا۔اور حضور ہی کی طرف میری توجہ تھی۔جمعہ کے بعد حضور کے لئے ایک کو سی بچھائی گئی۔حضور تشریف فرما ہوئے اور سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی۔جس وقت حضور سورۃ فاتحہ پڑھ رہے تھے ، میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ بالکل بھولی بھالی شکل کا انسان ہے جو تقریریں ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں وہ ان کی ہرگزہ نہیں ہو سکتیں، مگر حضور نے تقریر فرمائی تو میرا سارا شک رفع ہو گیا۔اس تقریر میں حضور نے فرمایا کہ لوگ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں کہ وہ رب العالمین ہے۔مالک یوم الدین ہے اور چاہتے ہیں کہ گمراہی کے انتہالہ کا اللہ کوئی علاج کرے۔مگر جب اللہ تعالی نے علاج کا سامان کیا ہے تو لوگ منکر ہو رہے ہیں۔کیا خدا تعالیٰ ظالم ہے کہ ایک تو امت گمراہ ہو رہی ہے اور دوسرے ان میں ایک دجال کو بھیج کر انہیں اور گمراہ کرے۔یہ سوچتے نہیں ہے؟ اس تقریر کا لوگوں پر اس قدر اثر ہوا کہ بے شمار مخلوق نے بعیت کی۔مجھے چوہدری اللہ داتا صاحب (فاناں والی میانوالی والے) نے کہا کہ بعیت کرو۔کیا دیکھتے ہو ؟۔ان کی تحریک سے میں نے دستی بیعت کر لی۔اس سے پہلے میں حضرت اقدس کی ہر مجمع میں تائید کیا کرتا تھا۔مگر ابھی تک بعیت نہیں کی تھی۔ہاں ایک بات یاد آئی جب حضرت صاحب فٹن پر سوار ہوئے تو ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا اُس نے کہا کہ یہ منہ جھوٹے کا نہیں ! آپ کی تعلیم صرف پرائمری تک محدود تھی مگر بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔چودہ پندرہ برس کی عمر میں جہاں بھی کسی علم دوست کا پتہ چلتا وہاں پیدل چل کہ اس سے استفادہ کرتے حضرت اقدس مسیح موعود و مہاری مسعود علیہ اسلام کی کتب پر گہری نظر رکھتے تھے۔اور اہل قلم تھے، قرآن مجید پڑھنے اور اس پر غور کرنے کا خاص شوق تھا۔تعلیم طب میں بلند پایہ رکھتے تھے۔اور دوا کی نسبت دعاؤں کے زیادہ قائل تھے مریضوں کےلئے اللہ تعالی سے بڑی گریہ و زاری سے دم کرتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ الہ تان نے ان کے ہاتھ میں شتدا ر کھی تھی۔آپ ہمیشہ مرض کی تشخیص کے بعد معمولی سی قیمت کی دوا تجویز کرتے اپنے علاقے میں ہر دل عزیز اور تیول تھے۔صبح سے لے کہ شام تک آپ کا ہر کام گھڑی کی سوئی کی طرح اپنے له ۱۲۰ اکتوبر شاد سے الحکم ۱۰ - ۷ ارنو مبتداء میں یہ تقریر چھپ چکی ہے۔، سے روایات غیر مطبوعہ جلد نا م ۲۳ تا ۲۳۰ - سه اخباره بدر ۲۷ جون نشید۔