تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 206
محفوظ کرلئے تھے ہے ، ۲۰۶ حضرت حکیم صاحب بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کئے گئے۔آپ کی وفات پر بعض معزز مہند و صاحبار کی طرف سے بھی تعزیت کے خطوط موصول ہوئے۔آپ نے اپنے پسماندگان میں اپنی بیوی کے علاوہ ایک بیٹیار افتخار الحق صاحب بیرسٹر) اور چار بیٹیاں بطور یادگار چھوڑیں کہ حضرت سید نذیر حسین شات پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ د ولادت قریباً شراء بعیت ۲۸ اکتو بر نشاء به مقام سیالکوٹ - وفات ۲۸ جولائی ۹۵ اید) حضرت سید نذیر حسین شاہ صاحب بہت نیک منتفی ، سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جانثار، آنریری مبلغ اور مناظر تھے، آپ کی وجہ سے گھٹیالیاں اور اس کے ماحول میں احمدیت کا نور پھیلا تکیے آپ کو کس طرح امام الزمان کے دست حق پرست پر بعیت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ؟ اس کی تفصیل حضرت شاہ صاحب کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔فرماتے ہیں :۔میرے والد صاحب کے خود معیت لیا کرتے تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ران کو اس قدر محبت تھی کہ اپنے مریدوں اور شاگردوں کو کہا کرتے تھے کہ جاؤ اور مرزا صاحب کی بعیت کہ وہ ہم مسجد میں تھے کہ ایک شخص سید شبیر شاہ نام چند اشتہار لایا اور میرے والد صاحب کو دیئے۔ان اشتہارات میں مباحثہ امرتسر کا ذکر تھا۔اور وہ شخص امرتسر سے ہی آرہا تھا۔میں نے وہ پڑھے اور ان کا مجھ پر گہرا الہ ہوا۔پھر جب سورج اور چاند کو گرہیں لگا تو اس وقت میں اپنے گھر میں تھا۔میرے والد صاحب یہ کہہ رہے تھے کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا نشان ہے۔اس بات کا بھی مجھ پر اثر ہوا۔پھر مولوی قطب الدین صاحب ایک موقع پر یہاں تشریف لائے۔اور کوٹلی لوہاراں کا ایک مولوی عبدالصمد ان کے ساتھ بحث کے لئے آیا۔پہلے سبحث نکے پنڈ مسجد میں شروع ہوئی۔مولوی عبد الصمد حب الله بعض اللہ بار بار کہتا الفضل و در مئی شعراء من له ايضا۔ه و الفضل لم راگست ۹۵ و استمبر شام رپورٹ مجلس مشاورت " ۱۹۲۶ ۶ ص۲۰۲ مٹ که نام سید نیاز علی شاہ صاحب شه مارچ۔اپریل ۱۸۹ء کا واقعہ ہے