تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 181
نہایت سختی سے منع کئے گئے ہیں حتی کہ سگریٹ نوشی کو بھی میری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اکثر لوگ کھانا جہان خانوں کی بجائے ہوٹلوں میں کھاتے تھے۔میں نے ایک چیز کا بغور مشاہدہ کیا کہ ہوٹل والے گاہوں کے پیسوں کا حساب نہیں رکھتے تھے اُن کا کہنا تھا کہ یہاں کوئی بے ایمانی نہیں کر سکتا۔جس قدر کھاؤ خود اپنا حساب کر دو۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ کوئی گاہک بھی ایک پیسیہ کی بے ایمانی نہیں کہتا تھا اور سب اپنی اپنی جگہ مطمئن تھے۔اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں مستورات بھی شرکت کرتی ہیں پردہ میں رہتے ہوئے آزادی کے ساتھ اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتی ہیں۔اور مردوں کے دوش بدوشی چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔مستورات کا احترام کیا جاتا ہے مستورات کے جلسہ کا الگ انتظام اور پروگرام ہوتا ہے۔موجودہ خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نہایت ہی نیک کردار کے مالک ہیں ، جماعت کے ہر کام میں آپ کو دخل ہے۔اور آپ کی مرضی کے خلاف ایک قدم بھی نہیں اُٹھایا جاتا اور یہ نہایت اچھی بات ہے کہ کسی ایک کو اپنا امیر اور سرپرست مان کر اس کی قیادت میں ہر کا م کیا جائے۔جماعت کے افراد میں سے اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو خلیفہ کی طرف سے اسے باقاعدہ مر الملتی ہے جو کہ اصلاحی سزا ہوتی ہے۔چھوٹی موٹی غلطی پر مقاطعہ کی سزا دی جاتی ہے۔ہاں مجھے یاد آیا میر عزیز دوست نے مجھے بتایا کہ ان کے عزیہ (جن کے ہاں میں قیام پذیر تھا ، جو کہ نظارت میں کام کرتے ہیں ان کو ایک دفعہ سات دن کے مقاطعہ کی مزا لی تھی۔چنانچہ ایک ہفتہ تک ان سے کسی نے بھی بات تک نہ کی۔دوست احباب تو الگ ان کے بیوی بچوں نے بھی ان سے گفتگو نہ کی بمیرے خیال میں یہ اصلاح کا ایک اچھا طریقہ ہے کیونکہ انسان اس طرح اپنی خطا پر جو کہ اس سے سرزد ہوتی ہے پشیمان ہوتا ہے اور آئندہ کے لئے محتاط ہو جاتا ہے۔جہاں تک جنت و دوزخ کا سوال ہے تو اس میں ذرہ بھر بھی حقیقت نہیں محض لوگوں کو دھوکہ دینے اور بدظن کرنے کے لئے ایسی بات مشہور کی گئی ہے۔میں نے اس کے متعلق اپنے دوست سے کہا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جنت و دوزخ تو کوئی نہیں۔البتہ ایک قبرستان ہے (قادیان میں ) حبس کا م بہشتی مقبرہ ہے یہ قبرستان ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو وصیت کرتے ہیں۔وصیت کی بڑی سخت شرائط ہیں جو ان شرائط کو پورا کرے۔صرف وہی اس میں دفن کیا جاتا ہے ،اہم شرائط یہ ہیں کہ