تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 180
1A۔ٹھہرا۔گو مکان مختصر تھا اور جہان زیادہ لیکن اس کے با دیو دکھی ان لوگوں نے میری رہائش کا نہا یت معقول انتظام کیا اور اس بات کا ثبوت دیا کہ مسلمان کے دل میں جگہ ہوتی ہے ' جس کے لئے میں ان کا نہایت ممنون ہوں۔۲۶؍ دسمبر 2ء کو جلسہ کا پہلا دن تھا اور لوگ صبح سے ہی جلسہ گاہ میں جمع ہو رہے تھے جلسہ تقریباً سوا نو بجے تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوا۔افتتاحی تقریر حضرت مرزا بشیر الدین محمود صا حب کی تھی، آپ کی تقریر کے بعد دیگر حضرات نے تقاریر کیں اور اس طرح یہ جلسہ تقریباً پونے ایک بجے تک ہوتا رہا۔یہ پہلی نشست تی ظہر کی نماز کے بعد دوسری نشست ہوئی ہو تقریباً چار بجے تک رہی خود خلیفہ صاحب اور دیگر حضرات کی تقریریں نہایت شائستہ اور قرآن وسنت کے دائرہ میں تھیں۔اسی طرح مختلف عنوانات پر یہ سلسلہ ہائے تقاریہ ۲۸؍ دسمبر تک رہا۔تقاریہ کے دوران بھی ان لوگوں نے نہایت ادب خلوص اور محبت کا ثبوت دیا۔کسی تقریر یا برتاؤ سے یہ ظاہر نہیں ہوا کہ احمدی غیر احمدیوں کو کافر کہتے ہیں۔بلکہ انہوں نے بار ہا اور صاف الفاظ میں یہ ظاہر کیا کہ خدا رسول اور قرآن کو ماننے والے سب بھائی ہیں۔غیر احمدی مسلمان بھی تمہارے بھائی ہیں فرق تھوڑا سا عقائد میں ہے بنیادی عقائد اور اصول ایک ہی ہیں۔ان میں کوئی فرق نہیں نیز انہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کی کتب سے حوالہ جات دیتے ہوئے ثبوت دیا کہ مرزا صاحب نے خود بھی کبھی کسی غیر میں کو کافر کے نام سے نہیں پکارا انہوں نے بتایا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو کا فرکہتے ہیں یہ محض بہتان ہے۔شروع سے آخر تک ان سب حضرات کی تقریروں کا لب لباب حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ، فوقیت اور بڑائی رہا۔ان حضرات نے خود اپنی تقاریر میں اس بات کا اعتراف کیا کہ مرند اعلام احمد صاحب حضور رسول مقبول کی شریعت کے تابع اور آپ کے غلام تھے۔گویا ان لوگوں کے قول و فعل، کسی سے بھی یہ پتہ نہیں چلا۔جس سے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں کوئی گستاخی واقع ہوتی ہو یا یہ کہ مرزا غلام احمد صاحب کوئی نیا دین یا اصول پیش کرتے ہوں۔نیم اگر تعصب کے جامہ کو اتار کر بغور مشاہدہ و مطالعہ کریں تو ہم کو کہنا پڑے گا کہ صحیح اسلام کی جھلک رہ کوہ میں ملتی ہے۔مثلاً کہ بوہ میں نمانہ کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔آج کل کے مسکرات دینما و غیر