تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 182
JAM وہ نماز روزہ کا پابند ہو ، جماعت کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو، جماعتی احکام کی پابندی کرتا ہو۔وصیت کرنے والا اپنی آمد اور جائیداد کا کچھ حصہ جماعت کے لئے وقف کر دیتا ہے۔آمد کا جو حصہ وقف کیا ہو اسے باقاعدگی سے ادا کر تا رہا ہو تب جاکر وہ اس بات کا حقدار ٹھہرتا ہے کہ وہ اس میں دفنایا جائے مندرجہ بالا شرائط کو پورا نہ کرنے والے کی وصیت منسوخ کر دی جاتی ہے یعنی وصیت کرنے والا اسلام کے اصولوں کا ایک چلتا پھرتا نمونہ ہونا چاہئیے۔یہ ہے وہ جنت جس کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں۔اعمال و اخلاق، قول وفعل کے اعتبار سے میں نے ربوہ میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی تو اسلامی اصولوں اور احکامات کے خلاف ہو بغرض تمام غلط اور بے بنیاد روایات مشہور ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف ان کے جذبات کو ٹھیس لگانا ہے اور کچھ نہیں ہے جماعت احمدیہ کی شاندار تعلیمی جماعت احمدیہ کے قیام پر قریبا چھیاسٹھ سال ہو رہے تھے جد وجہد پر ایک نظر اس عرصہ میں خدا کی اس کمزور اور ضعیف جماعت نے ہو ابتداء میں صرف چالیس نفوس پر مشتمل تھی اور جو جنوری ایه یک مشکل ایک پرائمری مدرسہ کھول سکی تھی۔اب کسی طرح ایک بین الاقوامی سطح پر اشاعت عوم کا فریضہ بجا لا رہی تھی ، اس کی ایمان افروز تفصیل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم اے (آکسی) کے الفاظ میں سپرد قلم کی جاتی ہے۔آپ کے جلسہ سالانہ 20 اء کے موقع پر تحریک احمدیت کے تعلیمی پس منظر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی علمی یو نیورسٹی اور دنیائے احمدیت کے تعلیمی اداروں کی علمی خدمات پر نہایت په تاثیر انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:- " جماعت احمدیہ کے زیر انتظام اور زیر نگرانی اس وقت تک اتنے تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں۔کہ اس مضمون کے لئے نوٹ لیتے ہوئے مجھے بھی حیرت ہوئی کہ باوجود عزیت اور مفلوک الحالی کے ہماری جماعت کسی جوان سمتی سے ان اداروں کو کامیابی کے ساتھ چلا رہ ہی ہے۔اگر ان اداروں کے اخراجات کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو طبائع پر ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا لیکن ان سب کے مجموعی اخراجات کو دیکھا جائے ه روز نامر الفضل ریوه ۲۷ جنوری ۹۵۶ ئه م :