تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 179
169 قلمبند کر کے اخبار" الفضل " کہ کوہ کو بھیجوائے :- ایک عرصہ سے میری یہ دلی تمنا اور خواہش تھی کہ نہیں ربوہ جا کر خود اپنی آنکھوں سے ان چیزوں کا بغور مشاہدہ کروں جن کی بات ہر طبقہ میں طرح طرح کی روایتیں مشہور ہیں۔مثلاً یہ کہ احمدیوں نے قادیان اور ربوہ میں جنت اور دوزخ بنائی ہوئی ہیں۔اور وہاں پریاں اور حوریں رہتی ہیں۔احمدی مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں۔اور اُن کا خدا ربوہ میں رہتا ہے وغیرہ وغیرہ اس قسم کی اور بہت سی روایتیں مشہور ہیں اور میں نے خود بہت سے غیر احمدی حضرات سے اس قسم کی بے بنیاد باتیں شنی ہیں جن کو کہ عقل تسلیم نہیں کرتی جب میں ان باتوں کو سنتا تو میرا اشتیاق اور بڑھتا تھا چنانچہ میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ جب کبھی موقع ملائیں ان کی اصلیت معلوم کروں گا۔ہر سال دسمبر کے آخری ہفتے میں ریوہ میں جلسہ سالانہ ہوتا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں احمدی اور غیر احمدی شرکت کرتے ہیں۔اس دفعہ مجھے بھی اس جلسے میں شرکت کا موقع ملا۔میں اپنے ایک احمدی دوست کے ہمراہ ریوہ گیا تھا۔ہمیں ایک غیر جانب دار مسلمان کی حیثیت سے اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں نے جو کچھ بھی وہاں دیکھا خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس کو صحیح صحیح عوام کے سامنے رکھوں تاکہ وہ غلط فہمیاں دور ہو سکیں جو ان میں اس جماعت کے متعلق پیدا ہو چکی ہیں۔ہمارا مذہب اسلام میں اجازت دیتا ہے کہ ہم ہر مذہب اور طبقہ کا صحیح طور سے مطالعہ کریں۔اور پھر اپنی عقل اور دماغ سے اس کے اچھا اور میرا ہونے کا فیصلہ کریں نہ کہ تعصب سے یونہی بُرا بھلا کہیں۔آب یکی اپنے مشاہدات کا ذکر کرتا ہوں۔جلسہ کے ایام میں رتوہ میں اہالیان ربوہ کی طرف سے ہر خاص و عام کے لئے خواہ وہ احمدی ہوں یا غیر احمدی) قیام اور طعام کا مفت انتظام ہوتا ہے اور اس مقصد کے لئے ریوہ کے اکثر مکانات کالج سکول اور دفاتر کی عمارات خالی کروادی جاتی ہیں۔ربوہ میں آنے والے کا استقبال کرنے کے لئے جماعت کی طرف سے اسٹیشن اور میں کے اڈہ پر مجلس استقبال کے کارہ کی موجود ہوتے ہیں۔جو اُن کو مہمانخانوں میں یا جہاں انہوں نے جانا ہوتا ہے پہنچاتے ہیں۔میں چونکہ اپنے دوست کے ہمراہ گیا تھا اس لئے انہیں کے ساتھ اُن کے ایک مقامی عزیز کے ہاں