تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 154
۱۵۴ وطن ہو جائے گا۔مگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاعْلَمُوا رَنَّ اللَّهَ يَجُولُ بيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ - انسان اور اس کے دل کے درمیان تعدا تعالیٰ حائل ہوتا ہے۔دل تک وہی بات پہنچ سکتی ہے جو خدا پہنچائے۔دوسرا کوئی نہیں پہونچا سکتا اس لئے پہلے تو اس نسخہ پر عمل کریں کہ نمازوں اور دعاؤں پر زور دیں اور اپنے ملک کے لوگوں کی ہدایت اور انتہائی کے لئے خدا سے اپیل کریں پھر جب لوگوں کے دل نرم ہو جائیں اور خدا کا فضل ان پر نازل ہونے لگ جائے تو محمدہ اور لطیف لٹریچر جو اسی زبان میں لکھا گیا ہو جس زبان کو آپ کے اہل مک سمجھتے ہیں ان میں پھیلائیں۔اس زمانہ میں اختیار بھی بڑا اہم کام کرتے ہیں۔اگر آپ ایسے اخباروں کی اشاعت کریں جو اسلام کی روشنی پھیلانے کی خدمت کر رہے ہیں۔تو یقیناً ایک پنتھ دو کاج ہو جائیں گے۔اور آپ کے خیالات بھی لوگوں تک پہونچیں گے اور آپ کا ایک اپنا اخبار بھی لوگوں میں مقبول ہو جائے گا۔اور آپ کی اندرونی اصلاح کا کام بھی ترقی کرے گا۔اس کے علاوہ اگر چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ جو چار چار صفحے یا آٹھ آٹھ صفحے کے ہوں خصوصا جو تامل اور کنزی وغیرہ میں لکھے ہوئے ہوں اگر غیر مسلموں میں پھیلائے جائیں تو ان کے قلوب میں اسلام کی طرف رغبت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔مگر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسلام کی سب سے بڑی نعمت دُعا اور اس کی قبولیت کی اشاعت کریں۔د ماؤں کی عادت ڈالیں اور غیر مسلموں سے کہیں کہ اپنی مشکلات میں ہم سے دعا کروایا کرد خدا تمہاری مشکلات دور کرے گا۔میرا تجربہ ہے کہ جنوبی ہند کے ہندو بہت سمجھدار اور غیر متعصب ہیں۔اگر محبت سے ان تک بات پہنچائی جائے گی تو یقیناً وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔جب خدا تعالیٰ چند آدمی اُن میں سے آپ کو دے تو آپ ان کو منظم کریں اور انہی کو ان کی قوم میں تبلیغ کے لئے بھجوائیں جو اسلام کے ابتدائی زمانہ کی طرح یا بدھ کے ابتدائی زمانہ کے بھکشوؤں کی طرح اپنی قوم میں تبلیغ کریں اور یاد رکھیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقولى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدُ والله مشر اپنے بھائی کی مد کرو۔مگر نیکی اور تقوی کے متعلق گناہ اور ظلم میں کبھی اس کی مد ت کرد۔اپنی له المائدة : i