تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 155 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 155

۱۵۵ طبیعتوں میں سے درشتی نکال دو۔نرمی اور دعا پر زور دو۔پھر اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا۔اور زیادہ سے زیادہ آپ کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کا مدد گار ہو۔مرزا محمود احمد و خلیفة المسیح الثانی قادیان دارالامان کی طرف رجوع خلائق قادریاں اس کے نواحی دیابت بکہ پنجاب کے اس کے ہر علاقہ میں امن و امان کی صورت حال چونکہ نہایت تیزی سے خوشگوار ہورہی تھی اس لئے قادیان کے درویشوں کیلئے مشرقی پنجاب میں کسی حد تک آمد و رفت کا دروازہ کھل گیا اور ملک کے ہر مذہب وقمت کے افراد قادیان کی طرف اس کثرت سے آنے لگے کہ با قاعدہ طور پر ایک دفتر زائرین کھولنا پڑا جس کا کام مقامات مقدسہ کی زیارت کرانا اور جماعت احمدیہ سے متعلق معلومات بہم پہنچانا تھا۔مکرم سید محمد شریف صاحب دفتر زائرین کے انچارج مقرر ہوئے۔اُن کے علاوہ چند اور درویش اس کام کی انجام دہی کے لئے متعین کئے گئے۔دفتر کی دیواروں پر بعض موزوں تبلیغی قطعات آویزاں کئے گئے جن میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود کی صداقت میں مختلف مذاہب کی پیش گوئیاں درج تھیں زائرین انہیں پڑھتے اور بعض اوقات نوٹ بھی کر لیتے۔اور اُن کی روشنی میں تبادلۂ خیالات بھی کرنے، بعض زائرین دعا کی درخواست کرتے ہوئے نذرانہ کے طور پر رقوم بھی پیش کرتے ، بعض مساجد کی صند قیچیوں میں رقم ڈال دیتے۔دفتر زائرین کی طرف سے زبانی معلومات بہم پہنچانے کے علاوہ مہدو، سکھ، عیسائی مسلمان اور دیگر اقوام کے زائرین کو حسب موقع اردو، انگریزی ہندی اور گورمکھی میں لڑر پچر دینے کا بھی انتظام کیا گیا بشر میں آٹھ ہزار دو سو انچاس زائرین قادیان آئے جن میں سے تعلیم یافتہ طبقہ کو اٹھارہ سونیتیس ریکیٹ اور کتا ہیں تقسیم کی گئیں۔رجوع خلائق کا بہر غیر معمولی سلسلہ خدا کی نصرت اور فرشتوں کی آسمانی تحریکات کے نتیجہ میں تھا۔کیونکہ علاقہ میں امن و امان کی معتدل صورت حال کے باوجود درویشان قادیان کے لئے مشرقی پنجاب اور بعض دوسرے ه جفت روزه بدر قادریان ۲۸ نومبر ۵۵ه ما