تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 96 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 96

۹۶ کیمپ سے نکل کر دیوانہ وار اس سمندر کو چیر کہ چار چار پانچ پانچ فٹ پانی میں سروں پر کھانے کا سامان ، دوائیاں ، کپڑے لے کر سیلاب سے تہ تیغ دیہاتیوں کی طرف بے خوف خطر جا رہے تھے۔کیمپ کا بورڈ میں نے غور سے پڑھا "رضا کاران انجمن احمد یہ ربوہ " میرا دل غصہ سے تلملا اُٹھا یہ کیا غضب ہے کیا اندھیر نگری ہے یہ لوگ ہماری نظر میں خارج از اسلام ہی سہی مگر اس وقت یہ میرے خیال میں سب سے زیادہ خدمت کر رہے ہیں مگر پندرہ دن سے کسی اخبار نے یہ لکھنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی مجھے یہ خیال پیدا ہوا تو میں نے ایک فرشتہ صورت باریش سے پوچھا۔صاحب یہ ربوہ کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ کافروں کی بستی چنیوٹ کے دریا کے اس پار آئے گی مگر میرا ان لوگوں سے اختلاف ہے لیکن مجھے شوق پیدا ہوا یہ کافروں کی بستی ضرور دیکھوں گا۔میں نے اس باریش کو کریدنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ وہ مولوی صاحب ہیں اور کٹر احماری ہوا کرتے تھے میں نے سوال کیا اجی آجکل وہ جماعت احرار کہاں ہے انہوں نے فرمایا خدا کی مرضی وہ آجکل دنیا میں نہیں اور اس کے لیڈر تحریک ختم نبوت کے بعد جہاں سینگ سمائے موت کے دن پورے کر رہے ہیں۔نہیں نے ایک سوال اور کیا اجی مولوی صاحب اگر در توہ دیکھنا ہو تو۔انہوں نے فرمایا بابا کیا دیکھو گے۔ان کا خلیفہ المسیح جب سے اس پر حملہ ہوا ہے باہر نہیں نکلتا اور اگر وہاں کسی کو پتہ چل جائے کہ تم مسلمان ہو تو مشکل بن جائے گی۔یہ بچہ اسرار باتیں سن سن کر میرا ارادہ پکا ہو گیا خواہ کچھ ہی ہو یہ کا فروں کی بستی ضرور دیکھوں گا۔چنیوٹ کے اڈے سے لاری آگے جو ہوئی دریائے چناب کا پک آ گیا وہ راوی والی ہر بہر پانی کی نہ تھی معمولی پانی تھا جیسے ایک ندی ہے دریا نہیں۔میں نے عنوان اپنے مضمون کے لئے دل میں قائم کر لیا (کافروں کی بستی ندی کنارے ) ہار کر کے تھوڑی دیر بعد ربوہ کی آبادی آنی شروع ہو گئی۔کہیں نے کلینر کو عرض کیا مجھے ربوہ انتہنا ہے گو میرا ٹکٹ سرگودہا کا تھا میرے کہنے پر داری سے سامان اتارا۔اس لاری سے میں اکیلا ہی اُترا۔وہاں دو تین آدمی معزز موجود تھے تالیا دوسری طرف جانے کے لئے بس کے انتظار میں تھے انہوں نے مجھے