تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 97 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 97

سے دریافت کیا مولوی صاحب کہاں جاتا ہے ؟ کیا آپ احمدی ہیں ؟ نہیں نے برجستہ جواب دیا جانا تو بھائی پشاور ہے اور احمدی بھی نہیں یہاں صرف کافروں کی بستی دیکھنے اترکھرا ہوا ہوں کیا اس بستی میں کوئی دکان ہے جہاں رات بسر کر سکوں اور کیا یہاں سامان اُٹھانے کے لئے مزدور نہیں ہوتے وہ میرے سامان پر جھپٹ پڑے ہم آپ کے مزدور ہیں۔سامان اُٹھا لیا اور چل پڑے تھوڑی دور جا کر ایک احاطہ کے اندر ایک کمرہ میں میرا سامان رکھ دیا۔وہاں کے انچارج کو بلا کر اطلاع دی۔یہ مہمان ہیں۔انہوں نے دو آدمی بلائے جنہوں نے ایک چار پائی پر میرا بستر کھول کر لگا دیا کرسیاں میز درست کر کے منٹوں کے اندر پر تکلف چائے لا کہ پیش کر دی۔بیس سے سامان لانے والے معزز مزدور جا چکے تھے۔یہ قیافہ درست نکلا انہوں نے دوسری طرف سے آنے والی پس پر جانا تھا۔پہلی بسم اللہ سے میرے دل پر جانے والوں کی اس حرکت کا گہرا اللہ ہوا چائے کے ساتھ میں نے منتظم صاحب کو اپنا کنزم کترم شروع کر دیا۔جناب یہ تو فرمائیے سُنا ہے مدت سے ہیڈ آف دی احمد یہ یعنی حضرت میرزا بشیر الدین صاحب محمود خلیفة المسیح الثانی کو کسی نے نہیں دیکھا انہوں نے جواب دیا غلط ہے آپ ابھی ایک منٹ کے اندر اُن کو مل سکتے ہیں۔میں چائے آدھی تیتر آدھی بٹیر کر کے ان کے ساتھ ہو لیا حضرت مسجد میں تشریف فرما تھے۔سینکڑوں آدمی ارد گرد بیٹھے تھے قابل عمل نصیحتیں کی جا رہی تھیں سب سے زیادہ مسئلہ سیلاب کے مصیبت زدوں کو ہر قسم کا آرام ، کھانا ، سردی سے بچانا، دوائیاں پہنچانا تھا، یہ گفتگو سن کہ میں بہت متاثر ہوا۔میں صرف علیک سلیک کر کے بیٹھ گیا تھا میرا خاص مقصد کوئی تھا ہی نہیں میں دُور تھا ایک غیر ملکی آدمی غالباً کوئی جرمن تھا زیادہ توجہ اس طرف تھی حق بھی یہی تھا کیونکہ ہزاروں میں سفر کر کے آیا ہوا تھا۔تھوڑی دیر بعد شام سے کچھ ہی پہلے وہ تشریف لے گئے اور میں اپنی قیام گاہ پر آ گیا وہاں ہی نمازہ ادا کی اور ساتھ لائی ہوئی اخباروں کو پڑھتے پڑھتے نماز عشاء ادا کر کے سو گیا۔صبح سویرے اُٹھا خود بخود باہر نکل گیا۔اندھیرا ہی تھا۔بستی سے پہاڑ کے دامن تک پہنچ گیا۔دامن کے ساتھ چلتے چلتے