تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 95 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 95

۹۵ قابلِ ذکر ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ کراچی اس سے قبل ایک ہزار روپے کی قسط روانہ کر چکی ہے۔امریکا گذشتہ ماہ میں پانچ اکتوبر کو اتفاق سے لاہور - -۲۴ اخبار قلندر پشاور چلا گیا اور ہر اکتوبر کاسیلاب آگیا۔میں بھی کئی 4 ونوں تک وہاں گہ کا رہا حتی کہ تمام راستے ریل اور لاریوں کے بالکل بند ہو گئے لاہور سے جو روزنامه اخبارہ نکلتے ہیں لاہورہ تک ہی محدود تھے اور سیلاب کی خیریں سرکاری یا کچھ سنی سنائی تھیں جو سخت خطر ناک تھیں۔ایک روزنامے کے دفتر میں یہ بھی دیکھا کر تا تھا کہ بعض جماعتوں کے پروپیگنڈا سیکرٹری یا بعض لوگ بذات خود تشریف لائے کہ ہماری جماعت نے سیلاب زدگان لوگوں کے لئے یہ کیا وہ کیا۔اپنے نام کا مراسلہ بنا کر دے جاتے۔اگر اخبار میں دوسرے دن ان کا مراسلہ نہ ہوتا تو وہ صبح سویرے ہی لڑائی کرنے دفتر تشریف لانے کہ میں کل فلاں خبر دے گیا تھا وہ نہیں چھپی۔اور جماعتوں کی طرف سے ٹیلیفون آتے۔ان باتوں سے صاف ظاہر ہوتا کہ یہ لوگ خدا سے کچھ خوف نہیں کہ رہے بلکہ نام اور بعد میں انعام کے لئے سارا دھندا کر رہے ہیں۔تقریباً پندرہ دن کے بعد کچھ راستہ بنا تحقیق سے پتہ چلا یہ راستہ بذریعہ لاری لاہور سے شیخو پورہ اور وہاں سے گوجرانوالہ ہے۔وہاں سے پشاور کے لئے گاڑی ملنے گی یا لاہور سے اسی راستہ پر سر گو دیا اور وہاں سے چناب ایکسپر میں رات کو ملے گی ، یکی نے فیصلہ کر لیا کہ سرگودہا کے راستے ہی جاؤں گا۔مبادا گوجرانوالہ سے پشاور کے لئے سیدھی گاڑی نہ ملے۔چنانچہ میں سرگودہا کا ٹکٹ لے کر لاری پر کراؤن کیس کے اڈے سے سوار ہو گیا۔۱۲ بجے شیخو پورہ پہنچا۔ون وے ٹریفک تھا۔اور سٹرک پر ہزاروں مخلوق خدا بے یارو مددگار پڑی تھی۔سڑک کے دونوں طرف پانی ہی پانی میلوں تک نظر آرہاتھا۔نصف راستہ طے کر لیا تو سڑک کے کنارے ایک رضا کاروں کا کیمپ لگا تھا۔رضا کار " نمی روشنی" کراچی اور اکتو بر شده نیز پاکستان سٹینڈرڈ کراچی ۲۸ / اکتوبر۔