تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 68
Σ ۶۶ بیٹا ہو کہ ابراہیم کا بھی بیٹا ہوں اور ابراہیم کا بیٹا ہو کہ اسمعیل کے کاموں میں اس کا شریک ہوں۔بس جو کام اس نے کیا وہ یکی بھی کروں گا۔جو شخص اس نقطۂ نگاہ سے اسلام کو دیکھتا ہے اس کے لئے عید الا ضحیہ بالکل اور چیز ہو جاتی ہے۔کسی نے کہا ہے کہ دوسروں کی باتیں شنکر نصیحت حاصل کرنا عقلمند انسان کا کام ہے یہ بھی درست ہے مگر اپنے ہی خاندان کے افراد کی قربانی اور ان کا نمونہ جو تغیر انسان کے اندر پیدا کر سکتا ہے وہ کسی دوسرے کی قربانی اور اس کا نمونہ تغیر پیدا نہیں کر سکتا۔پس عید الاضحیہ کے آنے پر ہم مسلمان یہ سبق تازہ کرتے ہیں کہ اس میں کسی غیر کا ذکر نہیں بلکہ میرے بھائی اسمعیل کی قربانی کا ذکر ہے۔اگر اس نے ایسا نمونہ دکھایا تھا تو یکیں کیوں نہیں دکھا سکتا۔اگر ابراہیم کا ایک بیٹا ایسی قربانی کر سکتا ہے تو اس کا دوسرا بیٹا ایسی قربانی کیوں نہیں کر سکتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ چونکہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں سے ہیں جو ساری دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے تھے اس لئے ایک سچا مسلمان تو اس موقعہ پر یہ کہے گا کہ اگر حضرت ابراہیم نے خدا کی راہ میں اپنا ایک بیٹا قربان کیا تھا تو میں دین کی راہ میں اپنے دو بیٹے پیش کروں گا کیونکہ یکی ابراہیم ہی کی نہیں محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بھی آل ہوں۔غرض ہر سلیمان اگر حقیقی معیار روحانیت کو حاصل کرنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے سمجھنے کی عادت ڈالے پھر آدم تک جو سلسلہ انبیا ء جاری رہا اس کا اپنے آپ کو جزو سمجھے۔جب وہ اس بات کو سمجھ لے گا تو اس کا اخلاص بالکل اور رنگ اختیار کر لے گا۔اس کی رُوحانیت ترقی کر جائے گی۔اس کی قربانی بڑھ جائے گی اور اس کی روح ایک نیا جامہ پہن لے گی اور جو چیز اسے پہلے دوسروں کے باپ میں نظر آتی تھی وہ اسے اپنے خاندان میں نظر آنے لگے گی تب وہ خطرناک وادیاں جن میں سے گذرتے بلکہ داخل ہوتے بھی لوگ ڈرتے اور گھر اتے ہیں ان میں سے گذرنا اس کے لئے آسان ہو جائے گا اور وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں تیزی سے ترقی کرنے لگے گا۔پس اس عید سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ روح اپنے اندر پیدا کرو کہ یہ دوسروں کے باپ کے قصے نہیں بلکہ تمہارے اپنے باپوں اور اپنے خاندان کے واقعات ہیں ہو تمہارے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کو عید الاضحیہ کے ذریعہ تمہارے