تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 60 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 60

جا سکتی ہے لیکن اگر ہمارا نمونہ اچھا نہیں تو وہ کہے گا کہ " دُور کے ڈھول سہانے" باتیں تو ہم بڑی سُنتے تھے لیکن پاس آکر دیکھا تو ہمیں معلوم ہوا کہ اس کا پھل ایسا میٹھا نہیں پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھوا اور چندہ مساجد کی تحریک میں حصہ لو۔اگر ہماری جماعت کے تمام دوست اس چندہ میں حصہ لینا شروع کر دیں تو ہر سال ایک خاص رقم اس غرض کے لئے جمع ہو سکتی ہے۔۔۔۔ہماری جماعت میں ایک غریب سقہ تھا جب بھی چندہ کی کوئی تحریک ہوتی وہ فوراً آ جاتا اور کچھ نہ کچھ چندہ دے دیتا۔اس کی تنخواہ صرف تیس روپے ماہوار تھی مگر آہستہ آہستہ اُس کے چودہ پندرہ روپے چندہ میں جانے لگے اور وہ ہر نئی تحریک پر اصرار کرتا کہ اس میں میرا بھی حصہ شامل کیا جائے۔وہاں کے امیر جماعت نے مجھے لکھا کہ ہم اس کو بارہ بار سمجھاتے ہیں کہ تمہاری مالی حالت کمزور ہے تم ہر تحریک میں حصہ نہ لیا کہ و ہر تحریک غرباء کے لئے نہیں ہوتی مگر وہ کہتا ہے یہ کسی طرح ہو سکتا ہے کہ چندہ کی تحریک ہو اور پھر یکں اس میں حصہ نہ لوں اس لئے آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اسے روکیں چنانچہ یکی نے اُسے پیغام بھجوایا کہ آپ چندوں میں اس قدر زیادہ حصہ نہ لیا کریں تب کہیں جا کر وہ گا۔۔۔احمدیت اگر پھیلے گی اور اسلام اگر ترقی کرے گا تو انہی لوگوں کے ذریعہ جو سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کہنا ہے ہم نے ہی کرنا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ہم سے اپنے دین کی خدمت کا کوئی کام لے رہا ہے تو یہ ایک انعام ہے جو ہم پر کیا جا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے ایسے زمانہ میں ہم کو اسلام کی خدمت کے لئے چنا جبکہ اسلام کمزور ہو رہا ہے اور مسلمان صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے جائیں گے اور ان کے نام اسلام کے مجاہدین میں شمار کئے جائیں گے پہلے (۲) مورخه ، اروفا ۱۳۳۲ اہش / ۷ در جولائی ۱۹۵۳ء کے خطبہ میں حضور نے فرمایا در قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے :۔ياتها الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا (المؤمنون (۵۲) نه روزنامل الصلح » کراچی مورخ ۲۲ ر و ا ۳۳۲ امتش بمطابق ۲۲ جولائی ۱۹۵۳ء من *