تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 61 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 61

۵۹ (ترجمہ) اسے رسولو! پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور مناسب حال عمل کرو۔حضرت المصلح الموعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن مجید کی اس آیت کی لطیف تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :- " قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس بارہ میں مومنوں کو ایک اصولی ہدایت دیتا ہے اور فرماتا ہے يَايُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا یعنی یہ مقام که انسان ہر قسم کے تزلزل سے بچ جائے اور اسے روحانیت اور مذہب پر ثبات حاصل ہو جائے حلال کھانے کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے اگر تم حلال کھاؤ گے تو اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر تمہیں عمل صالح کی توفیق ملے گی جس طرح آجکل کمیونزم نے یہ بات نکال لی ہے کہ سارا دھندا پیٹ کا ہے چنانچہ جہاں بھی کمیونسٹوں سے بات کرنے کا کسی کو موقع ملے وہ یہی کہتے ہیں کہ اور مسائل کو بجانے دیئے سارا جھگڑا ہی پیٹ کا ہے اسی طرح قرآن کریم یہی کہتا ہے کہ پیٹ ہی اصل چیز ہے مگر انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ جس نے پیٹ کا مسئلہ حل کر لیا وہ کامینا ہو گیا اور قرآن یہ کہتا ہے کہ جس نے اپنے پیٹ کو ہر قسم کے حرام سے بچا لیا وہ کامیاب ہو گیا جس نے حلال اور حرام میں ہمیشہ امتیاز کیا اور جس نے طیبات کا استعمال ہمیشہ اپنا معمول رکھا وہی ہے جسے عمل صالح کی توفیق ملتی ہے یعنی نماز کی بھی ایسے ہی توفیق ملتی ہے جو حلال کھاتا ہے اور روزہ بھی اس کو نصیب ہوتا ہے جو حلال کھاتا ہے اور جج بھی اسی کو نصیب ہوتا ہے جو حلال کھاتا ہے اور زکوٰۃ کی بھی اسی کو توفیق ملتی ہے جو حلال کھاتا ہے۔۔۔اگر کمیونسٹ ایک بات کو بارہ بار رھنے سے اس قدر پھیلا سکتے ہیں تو تم سمجھ سکے ہو۔کہ اگر خدا کی بات کو رٹنا شروع کر دیا جائے تو وہ کیوں نہیں پھیلے گی اور قرآن یہ کتنا ہے کہ جس کے پیٹ میں حلال رزق جائے گا وہی دنیا میں عمل صالح بجالا سکے گا۔اگر ہم اپنی ہاتوں میں اور خطبات میں اور تقاریر میں اور آپس کے لین دین میں یہی فقرہ دہرانا شروع کر دیں تو دنیا اس کی قائل ہو جائے گی " لے به روزنامه المصلح" کراچی مورخه ۲۸ جولائی ۱۱۹۵۳ (۲۸ وفا ۱۳۳۲ ش) مد و