تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 59
اس تاریخی سفر کی علمی اور دائمی یادگاروں میں وہ معرکۃ الآراء خطبات و تقاریر ہیں جو حضور نے نہایت اہم دینی اور علمی اور اخلاقی مسائل پر ناصرآباد، احمدآباد، محمد آباد اور کراچی میں ارشاد فرمائیں اور جن سے جماعت کے علم و عرفان میں بے انداز ترقی ہوئی حضور کے یہ خطابات اسی زمانہ میں روز نامہ المصلح ہیں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئے اور اخبار "بدر قادیان میں بھی چھپ گئے۔ذیل میں اُن کی اہمیت کے پیش نظر بعض کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے :۔حضرت المصلح الموعود نے ناصر آباد میں اپنے خطبات ارشاد فرمائے جن کی خطبات ناصر آباد تاریخ یہ ہے :۔۱۰۳، ۷ار و فار جولائی و ۱۴۱۷ ظهور/ اگست - (۱) حضور نے مورخہ ۱۰اروفا ۱۳۳۲اہش / ۱۰ جولائی ۱۹۵۳ء کے خطبہ میں بڑی تفصیل سے بتایا کہ بیرونی ممالک میں مساجد کی تعمیر اسلام کی تبلیغ کا ایک نہایت مؤثر اور کامیاب ذریعہ ہے لہذا احمدیوں پر اشاعت اسلام کی جو بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے انہیں ہر وقت اس کو اپنے سامنے رکھنا چاہیئے اور تعمیر مساجد کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے پوری جد و جہد کرنی چاہئیے کیونکہ اسلام کی اشاعت یا مبلغوں کے ذریعہ ہوگی اور یا مساجد کے ذریعہ کا چنانچہ فرمایا :- جب تک ہماری جماعت اپنے اس فرض کو نہیں سمجھتی اس وقت تک اس کا یہ امید کر لینا کہ وہ اسلام کو دنیا پر غالب کرنے میں کامیاب ہو جائے گی غلط ہے۔اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوگی جیسے چھپکلی کی دم کاٹ دی جائے تو وہ دم تھوڑی دیر کے لئے تڑپ لیتی ہے لیکن پھر ہمیشہ کے لئے تختم ہو جاتی ہے۔ہمیں سوچنا چاہیئے آیا تو ہماری غرض صرف اتنی ہی تھی کہ ہم دنیا میں شور مچا دیں گے۔اور اگر یہی ہماری غرض تھی تو یہ کام ہم نے کر لیا ہے اب ہمیں کسی مزید کام کی ضرورت نہیں۔اور یا پھر ہماری غرض یہ تھی کہ ہم دنیا میں اسلام پھیلائیں اور اگر یہی ہماری مرض ہے تو اس کے لئے متواتر قربانیوں اور جد وجہد اور نیک نمونہ کی ضرورت ہے اور ہماری تبلیغ تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب ہمارہ اعملی نمونہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہو۔اگر ہمارے اندر دیانت پائی جاتی ہے۔اگر ہمارے اندر سچائی پائی جاتی ہے۔اگر ہمارے اندر نیک چال چلن پایا جاتا ہے۔اگر ہمار سے اندر معاملات کی صفائی پائی جاتی ہے تو ہر شخص جو ہمیں دیکھے گا وہ سمجھے گا کہ اس جماعت کے ساتھ مل کہ دین کی خدمت کی