تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 623
جن میں سے خون جاری تھا۔باندھ دیا گیا اور جو عضلات کٹ گئے تھے۔اُن کوسی دیا گیا۔گیس پیک ( GAS PACK) ڈرمیٹنگ ٹیوب DRAINING TUBE) زخم کے اندر رکھ دی گئی اور ٹانکے لگا دیئے گئے اور جلد کو سی دیا گیا زخم تازہ تھا اور ہو سکتا ہے کہ چار بجے شام کے قریب اکسی دن زخم لگا ہو۔۔5۔8 عدالت میں پیشیکر دو میری معائنہ رپورٹ ہے جو کہ میں نے پولیس کی درخواست پر ۱/۳/۵۴ کو تیار کی تھی۔یعنی سب انسپکٹر انچارج پولیس سٹیشن لالیاں کے مطالبہ پر یہ 1 - 8 - P عدالت میں پیش کردہ ہے۔زخم نمبرا ہو سکتا ہے۔چاقو سے لگا ہو۔1۔P - عدالت میں پیشیکر دہ زخم نمبر میری رائے میں حملہ آور کے ہاتھ اور اس کی پوری طاقت کے ساتھ ملاپ سے ہوا۔یا چا تو کے کند حصے کی ضرب سے یا سیٹے ہوئے زخم میں خون کے جمع ہو جانے کی وجہ سے ہوا۔ضروری شہ رگ کی شریان S TENO-MASTOID حملے کے نیچے واقع ہے۔یہ رگ زخمی ہونے سے بچ گئی اگر یہ رگ کٹ جاتی اور فوری طور پر طبی امداد نہ ملتی تو اس صورت میں زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔زخم نمیرا نمبر ہ کی نوعیت سادہ تھی۔میں لاہور سے زخم دیکھنے کے لیے تین دفعہ دلوہ آیا۔میں نے ٹانکے کھولے۔زخم تسلی بخش طور سے اچھا ہو رہا تھا۔XXN-NIL X XN عدالت سے۔مرزا بشیر الدین محمود احمد کے جسم پر لگے ہوئے زخم زندگی کے لیے عام حالات میں خطرہ کا موجب نہیں ہو سکتے تھے۔اس سے میری مراد یہ ہے کہ بروقت اور صحیح طبی امداد ملنے کی صورت میں یہ زخم زندگی کے لیے خطرے کا موجب نہیں تھے۔