تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 624 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 624

۲۵ ON SA سرکاری گواہ نمبر ۳ ڈاکٹر مرزا منور احمد ایم بی بی۔ایس۔میڈیکل آفیسر آن میلیتھے نوٹی فائیڈ ایریاکمیٹی بلدیہ باور اور اسٹنٹ انچارج نور ہسپتال ریوہ مورخہ دس مارچ ۱۹۵۴ء کو چار بجے شام کے کچھ منٹ بعد میں نے (حضرت) مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کا قصر خلافت میں طبی معائنہ کیا اور مندرجہ ذیل زخم آپ کے جسم پر پائے۔ایک کٹا ہوا کھلا زخم تقریباً ہم اپنے لمبا گردن کے پچھلی طرف دائیں حصہ پر دائیں کان کے تقریباً دو انگل پیچھے اور گرمی کے ساڑھے تین انگل نیچے۔اس زخم سے خون بہت کثرت سے یہ رہا تھا اور مریض صدمہ یافتہ تھا اس لیے میں نے فوری طور پر خون روکنے کے لیے تین پٹیاں باندھیں۔جب میں پٹیاں باندھ رہا تھا۔تو میں نے محسوس کیا۔کہ زخم کافی گہرا ہے، لیکن میں زخم کی صحیح گہرائی معلوم نہ کر سکا۔کیونکہ اُس وقت پہلا اور فوری مقصد یہ تھا کہ خون کو بند کیا جائے۔ورنہ اگر خون بلا روک ٹوک بنتا رہتا تو ایک خطرناک صورت حال پیدا ہوسکتی تھی۔یہ زخم کسی تیز دھار والے آلہ سے لگا یا گیا تھا اور غالباً زخم لگنے کا وقفہ پندرہ نہیں منٹ ہوگا۔ہو سکتا ہے کہ یہ زخم اسی چاتو کا ہو جو ۱۰۔۴ عدالت میں پیشیکر وہ ہے۔PC عدالت میں پیشیکردہ معائنہ رپورٹ میری ہے۔میری رائے میں یہ زخم جس کا میں نے معائنہ کیا تھا۔زندگی کے لیے خطرہ کا موجب تھا۔اس دن نصف شب سے تھوڑا عرصہ قبل لاہور سے ڈاکٹر ریاض قدیر ربوہ آئے اور انہوں نے (حضرت) مرزا بشیر الدین محمود احمد کا معائنہ کیا اور زخم کو کھول کر میری موجودگی میں سیا - اُن کے آنے سے پہلے کسی اور شخص نے زخم پر میرے لگائے ہوئے ٹانکوں کو نہیں چھوا۔Nic X X N