تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 622
۲۳ ONS۔A, سرکاری گواہ نمبر ۲ ڈاکٹر ریاض قدیر سرجن میو ہسپتال لاہور ۱۰ مارچ ۱۹۵۴ ء کو مرزا مظفر احمد صاحب (مرزا بشیر الدین محمود احمد کے بھتیجے) لاہور میں میرے پاس آئے اور وہ مجھے اپنے ہمراہ ربوہ لے گئے۔تاکہ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد کا معائنہ کروں اور ان کی دیکھ بھال کروں۔ر مارچ ۱۹۵۴ ء کو گیارہ بجکہ پندرہ منٹ رات کے وقت میں نے (حضرت ) مز البشیرالدین محمود احمد کا معائنہ ربوہ میں آپ کی جائے رہائش پر کیا۔میں نے آپ کے بدن پر مندرجہ ذیل زخم پائے۔نبرا - گردن کے پچھلے حصہ پر چوڑے رخ قطع کرتا ہوا سوا دو اپنے لمبا ز غم تھا۔جو سیا جا چکا تھا۔دائیں کان کے پیچھے دو انگل چوڑا اور گدی کے بیرونی ابھار کے نیچے ساڑھے تین انگل چھوڑا از خم تھا) نمبر ٢- ایک سوجی ہوئی خراش ساڑھے تین انچہ نظر کی اسی زخم کے ارد گرد اس کے نچلے حصہ بہ ہر خاص طور پر نمایاں تھی۔مجھے بتایا گیا کہ سوجن بڑھ گئی ہے۔زخم کے ٹانکے لگانے کے بعد مجھے شبہ ہوا کہ رقم کے اندر سے خون اب بھی جاری ہو رہا ہو گا۔اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ زخم کو دوبارہ کھولوں ۳/۵۴/ ۱۱ کو سوا تین بجے صبح زخم کھولا گیا۔اس سے پہلے جو تیاری ضروری تھی 03 کرلی گئی تھی۔زخم کھولنے پر میں نے دیکھا کہ زخم چھرا ہوا تھا اور سیاہ رنگ کے خون کے لو تھڑوں سے پُر تھا اور ایک درمیانے سائز کی شریان کے زخم سے خون تیزی سے بہ رہا تھا۔اس کے علاوہ زخم کی گہرائی سے اور سٹر نومے ٹائڈ (STER NO۔MATOID) عضلات کے قطع شدہ سروں سے بھی عام خون بھاری تھا۔یہ زخم سوا دو انچہ گہرا تھا۔اُن نسوں کو لے مقدمہ کے ریکارڈ میں فیض قدیر درج ہے۔