تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 548
۵۲۲ میں یہ نہ سمجھتا ہو کہ وہ اس کے بیوی بچوں کے لئے بھی کافی ہوں گی یا نہیں تو قرآن کریم میں اللہ تعالے فرماتا ہے کہ جو کوئی مومن جس درجہ کا مستحق ہوگا۔اس کے بیوی بچے اور اولاد اور ساتھی بھی وہیں رکھے جائیں گے گویا نہ صرف اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے گا کہ اس کی ضرورتیں پوری کی جائیں ملکہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے دوست رشتہ داروں کی ضرورتیں پوری کی جائیں گی اب دیکھ لو پنشن کا اس کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں پھر فرماتا ہے کہ جنت ہمیشہ رہنے والی ہے اور نیشن میں تو گورنمنٹ پراویڈنٹ فنڈ کا اندازہ کرتی ہے پھر پنشن مقرر کرتی ہے کہ اگر ہم اس کو پراویڈنٹ فنڈ دیتے تو عام طور پر اتنی عمر میں لوگ سر جایا کرتے ہیں تو اس کا حساب لگا لیا اور اس کا سود لگا کر پیسے دے دیئے، مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہاں وہ ہمیشہ ہی زندہ رکھے جائیں گے گویا پیشن دائمی ہو گی اول پیش دائمی ہوگی۔دوم پنشن اس کی سب ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو گی سو تم وہ پینشن ایسی ہوگی کہ اس کی ضرورتوں کو ہی پورا نہ کرے گی بلکہ سارے اہل و عیال کی ضروریات کو پورا کرے گی اگر اولاد بڑھتی چلی جاتی ہے پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں ہوتی چلی جاتی ہیں تو شیشی والے کہیں گے کہ ہم نے کہاں سے حساب کر کے دیتا ہے مگر وہ فرماتا ہے کہ وہ سب بھی اسی مقام پر رکھے جائیں گے اور جو حق اس کو دیئے جائیں گے وہ اُن کو بھی دیئے جائیں گے جنہوں نے خدمت نہیں کی۔اگر دنیوی حکومتیں ان اصولوں کو قبول کر لیں تو وہ بھی الحمد کی مستحق ہو جائیں گی اور ان میں لڑائی جھگڑے اور فساد بند ہو جائیں گے اور ان کے دشمن باقی نہ رہیں گے۔اگر الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ والی حکومت کو کوئی دشمن ٹانا چاہے تو اس کا مطلب ہوا نا کہ آپ بھی مرے ، یہ تو ہمیں بتاتی ہے کہ نہ صرف کام کرنے والے زندہ رکھے جائیں بلکہ جو کام نہیں کرتے وہ بھی زندہ رکھے جائیں آپ اگر کوئی گورنمنٹ یہ طاقت اختیار کر لے اور پھر اسے وسیع کیا جائے تو صرف اپنے ملک کے لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ باقی لوگوں کے لئے بھی۔لازمی بات ہے کہ اس حکومت کا دنیا میں کوئی دشمن ایسا پاگل کون مل سکتا ہے جو اپنے گلے پر آپ چھری پھیرنے لگ جائے اگر دنیا اس اصول پر عمل کرے تو سارے جھگڑے کیپیٹلزم اور کمیونزم کے ختم ہو جاتے ہیں بہلے ه - روزنامه الفصل ریوه ۲۲ جون ۱۹۵۵ ه م ، منگ