تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 547
۵۲۱ - خطبه جمعه ۳ جون ۱۹۵۵ ۶) " آج میں دوسری آیت کو لیتا ہوں یعنی الرحمن الرحیم کو۔فرمایا کہ خدا تعالے کی تعریف اس لئے ہے کہ وہ رحمان اور رحیم ہے، جو رحمان اور رحیم ہو گا وہ ساری قوموں کی تعریف کا مستحق ہو گا۔رحمن کے معنے قرآن کریم کی رو سے یہ معلوم ہوتے ہیں کہ جس نے کوئی نیک کام اور کوئی خدمت نہ کی ہو اس کے ساتھ بھی حسن سلوکی کرنے والا اور جس کے پاس کچھ نہ ہو اسے وہ ذرائع جتا کر کے دینے والا ہو جن ذرائع کی وجہ سے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کرے سکے اور رحیم کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص جو کام کرتا ہے اس کے کام کا بدلہ متواتر جاری ہے۔دنیا میں اس کی مثال پیشن میں ملتی ہے یعنی ایک آدمی نوکری کرتا ہے پھر بیس بائیس یا چالیس سال کے بعد وہ گورنمنٹ کا کام چھوڑ دیتا ہے تو اس کو پیشن مل جاتی ہے رحیم کا یہی مطلب ہے کہ جب کوئی شخص نیک کام کرتا ہے تو اس کا بدلہ جاری رکھتا ہے بار بار دیتا ہے تو نیشن ایک اونی امثال ہے۔قرآن کریم کی رو سے رحیمیت کے معنے پنشن سے بہت زیادہ ہیں کیوں کہ منیش تنخواہ سے آدھی ہوتی ہے بعض دفعہ وہ گزارہ کے لئے کافی نہیں ہوتی یا پھر بڑھاپے میں جو امداد دی جاتی ہے وہ بھی گزارہ کے لئے کافی نہیں ہوتی کہ انسان آرام سے بڑھاپے میں گزارہ کر سکے صرف اتنا ہی ہوتا ہے جو اس کو ملتا ہے مگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کریں گے یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کریں گے انہیں جنت ملے گی اور جنت کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے دَلَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاؤُن نیز فرماتا ہے وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُون یعنی جو کچھ ان کے دل میں خواہش پیدا ہوگی یا زبان پر آئے گی وہ انہیں مل جائے گی بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے لیکن انسان اس کو زبان پر لانے کی جرات نہیں کرتا وہ سمجھتا ہے کہ یہ بہت بڑا مطالبہ ہے تو باوجود دل میں خواہش ہونے کے کیونکہ وہ بیان نہیں کرتا اس لئے وہ پوری نہیں ہوتی اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان ممنہ سے ایک بات کہتا ہے لیکن دل میں جانتا ہے کہ یہ میرا حق نہیں اس لئے اللہ تعالے نے دونوں معنے بیان فرما دیئے کہ جنت میں لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاءُونَ بھی ہوگا اور لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَعُونَ بھی یعنی جو دل میں خواہش ہوگی وہ بھی پوری ہو جائے گی۔پھر ہو سکتا ہے کہ رجنت کی ضروریات کا علم انسان کو یہاں نہیں ہوتا، انسان وہاں ایسی چیزیں مانگے جو اچھی ہوں اور اس کو مل جائیں گی لیکن وہ نا واقفی