تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 549 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 549

۵۲۳ ۱۹۵۵ء ارد م دخطیه جمعہ ارجون 1920ء میں کئی جمعوں سے سورہ فاتحہ کے متعلق یہ بیان کر رہا ہوں کہ اس میں اللہ تعالے نے وہ گر بیان کئے ہیں جن سے کیپٹلزم اور کمیونزم کا مقاب کیا جاسکتا ہے آج بھی اس سلسلہ میں ایک کڑی میں نے بیان کرنی تھی لیکن بوجہ اس کے کہ ہم سفر کی تیاری کر رہے ہیں طبیعت میں کچھ پریشانی سی ہے اس لئے وہ سارے پہلو جو میں بیان کرنا چاہتا تھا بیان نہیں کرتا صرف مختصراً کچھ کہہ دیتا ہوں۔۔۔۔۔آج مالِكِ يَوْمِ الدِّينِ والا حصہ ہے دُنیا میں حکومت کی بڑی غرض یہی سمجھی جاتی ہے کہ وہ ہنگامی حالات EMERGENCIES میں کام آئے عام حالات میں افراد خود اپنا انتظام کو لیتے ہیں حکومت کا کام یہی ہوتا ہے کہ جب ایک جتھہ اور گروہ یا ایک قوم کوئی نشرارت کرے تو اس وقت اس کو سنبھال لے لیکن عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ حکومت ایسے کام سے عہدہ یہ آ نہیں ہوتی۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ الہی حکومت جو المحمند کی مستحق ہوتی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مالك يوم الدین ہوتی ہے۔اس کے بہت سے پہلو ہیں لیکن میں ایک پہلو کو لیتا ہوں۔یوم الدین کے لفظی معنے تو جزا سزا کے وقت کے مالک ہیں لیکن اصل مطلب یہ ہے کہ قومی یا مجموعی خرابی یا مجموعی طور پر اچھے کام کے اجزاء اور فیصلہ کے وقت انفرادی واقعات تو ہوتے ہی رہتے ہیں ان کے روکنے یا اِن کے جزا دینے سے نہ گورنمنٹ ڈرتی ہے نہ اس پر ان کا کوئی بوجھ ہوتا ہے اصل میں قومی واقعات ہی ایسے آتے ہیں جنہیں یوم الدین کہنا چاہئے۔ایسے وقت میں بعض دفعہ گورنمنٹ ڈر جاتی ہے کہ پبلک ہم سے کل پوچھے گی یا بعض دفعہ وہ جزا دینے سے کوتا ہی کہ جاتی ہے کیونکہ جزا اس کی طاقت سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ جزا سزا کے دن کا مالک ہے۔دنیوی حکومتیں جزا سزا کے دن کی جج تو ہوتی ہیں مالک نہیں ہوتیں۔خدا تعالے جب جزا سزا دیتا ہے تو اسے کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔وہ مجبور نہیں ہوتا کہ کسی کو جزا دے یا سزا د سے لیکن ایک جج ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عام عقل یہ کہتی ہے کہ کوئی قوم جو مجرم ہے وہ کسی وقت پکڑی جاتی ہے تو کل کو وہ پھر شرارت کرے گی جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دشمنوں کو یہ کہہ کر معاف کر دیا کہ لا تَشْرِيْبَ عَلَيكُم الْيَوْمَا يه لا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم والا سلوک مَابيه ایک بھی نہیں کر سکتا کیونکہ عام عقل یہ کہتی ہے کہ کوئی قوم جو مجرم ہو جب وہ کسی وقت پکڑی جائے تو