تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 539 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 539

۵۱۳ بجلی کڑک رہی تھی۔اور دل میں خوف تھا کہ کہیں خوائی موسم کے باعث حضور کو طیارہ میں تکلیف نہ ہو۔مکرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب بھی بار بار کہتے کہ دعا کرو مطلع صاف ہو جائے اور خیریت رہے۔ہوائی جہاز کے شروع کے سفر میں کچھ ہچکولے محسوس ہوئے لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے پرواز میں کامل سکون رہا۔طیارہ ایلیس پہاڑ پر سے گزرا تو تقریباً ۱۸ ہزار فٹ کی بلندی سے پرواز کو ر ہا تھا۔پائلٹ نے طیارہ کو اس بلند پہاڑ کے پہلو میں سے گزارا تا کہ مسافر پو را نظارہ حاصل کر سکیں حضور اس نظارہ سے محظوظ ہوتے رہے طیارہ کے جینوا پہنچنے کا وقت ساڑھے آٹھ بجھے تھا۔لیکن مقررہ وقت سے کچھ قبل ہی اُتر آیا۔طیارہ کے دروازہ پر شیخ ناصر احمد صاحب مبلغ سوئٹزر لینڈ اور چودھری نصیر احمد صاحب استقبال کے لئے موجود تھے۔مائکر ولبس جو جماعت نے چودھری نبی احمد آف ماڈرن موٹرز کی وساطت سے جرمنی سے لی ہے۔ائیر پورٹ کے دروازے پر موجود تھی۔قافلہ دو لیکیو ہوٹل HOTEL DELECU جنیوا میں پہنچا۔یہ ہوٹل جنیوا کی مشہور تھیل کے کنارے واقع ہے اور درمیانہ درجہ کے ہوٹلوں میں سے اچھا آرام دہ ہے۔رات ہوٹل میں گزارنے کے بعد اگلے دن صبح تھوڑے وقت کے لئے جنیوا کی سیر کے لئے تشریف لے گئے۔پھر نو بج کر دس منٹ کی گاڑی پر حضور بمعہ اہل وعیال و شیخ ناصر احمد صاحب زیورک کے لئے روانہ ہوئے لیے و مٹی کو حضور تقریباً ایک بجے زیورچ پہنچے اور کاروں میں سوار ہو کہ قافلہ اپنی جائے رہا ئش 2۔BEEONIAN STRASSE میں آیا۔حضور نے زیورچ پہنچنے کے بعد پونے چھ بجے شام امیر مقامی حضرت مرزا البشیر احمد صاحب کے نام تار ارسال فرمایا کہ مدہم خدا کے فضل سے اہل وعیال کے ساتھ بخیریت زیور پہ پہنچے گئے ہیں۔جینوں سے آگے تمام انتظامات شیخ ناصر احمد (مبلغ سلسلہ) نے کئے تھے جو کہ بہت عمدہ تھے۔شروع میں مکان میں تازہ روغن ہونے کی وجہ سے کچھ تکلیف ہوئی لیکن چند گھنٹے کے بعد یہ تکلیف رفع ہو گئی۔بیروت میں بھی تمام انتظامات اچھے تھے۔دمشق کے دوست ہمیں رخصت کرنے کے لئے بیروت آئے ه روز نامه الفضل گریوه ۲۲ متی ۶۱۹۹۹ ۳۰ - ۴ -