تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 538
۵۱۲ اترنے لگے ڈرائیور نے تیزی سے اپنا دروازہ کھولا حضور کا ہاتھ اس پر تھا اس نے بے اختیاطی کی اور جلدی سے حضور کا دروازہ کھولنے کے لئے اسے بند کر دیا حضور کی انگلی اس میں آگئی۔حضور کی لیے چینی کے ساتھ جماعت بے چین ہو گئی۔ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے پٹی کی۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ زیادہ زخم نہ آیا۔ڈرائیور گو احمدی نہیں تھا لیکن عقیدت مندوں کے اجتماع سے متاثر تھا اور سخت نادم تھا کہ اس تھا کہ اس کی لیے احتیاطی سے حضور کی انگلی پر زخم آیا۔حضور ائیر پورٹ کے ہال میں تشریف فرما تھے۔اور زخمی انگلی والا ہاتھے سلنگ میں تھا اس ڈرائیور نے حضور کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی اور موقعہ پا کر بڑھ کر حضور کے زخمی ہاتھ کو بوسہ دے کر اپنی ندامت کا اظہار کیا۔سامان دیکھا گیا۔پاسپور چیک ہو گئے ہوائی جہاز میں سیٹوں کے کارڈ لئے گئے اور حضور اس کمرہ انتظار میں تشریف لے گئے۔جہاں سے نکل کر ہوائی جہاز کو جاتا تھا۔سوائے سید منیر الحصنى صاحب شیخ نور احمد صاحب منير اور چند اور دوستوں کے باقی کو باہر سے ہی حضرت صاحب کو رخصت کرنا پڑا احباب کی زبانوں پر دعائیں تھیں آنکھوں سے رقت ہویدا تھی۔ان کا محبوب آقا اُن سے جدا ہو رہا تھا حضور کرہ انتظار سے باہر ہوائی جہاز کے لئے روانہ ہونے لگے۔سید منیر الحصنی اور دوسرے دوست پھر اس دروازہ کی طرف بڑھے اور دُعاؤں کے ساتھ پھر اپنے آقا کا ہاتھ چوما حضور نے سید منیر الحصنی صاحب کو عربی میں فرمایا کہ تمام دوستوں کو میرا سلام پہنچا دیں۔حضور اور قافلہ بشمول چودھری محمد ظفر اللہ خانصاحب ہوائی جہاز میں سوار ہو گئے۔حضور کے ساتھ مکرم چودھری ظفر اللہ خانصاحب بیٹھے حضور کی طبیعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی رہی۔تقریبا ساڑھے گیارہ بجے ہوائی جہاز یونان کے دارالخلافہ ایتھنز میں پہونچا۔حضور نے بمعہ قافلہ ائیر پورٹ کے ریسٹوران میں وقفہ کا وقت گزارا۔ساڑھے بارہ بجے پھر جہاز پر روم کے لئے سوار ہوئے اور اڑھائی بجے تقریباً روم پہنچے جہاں ایک دوست استقبال کے لئے موجود تھے علیحدہ کمرہ کا نشست کے لئے انتظام تھا۔مکرم چودھری ظفر اللہ خان صاحب روم سے سیدھے ایک گھنٹے کے وقفہ کے بعد ایمسٹرڈم کو روانہ ہو گئے۔اور حضور تقریبا ساڑھے تین گھنٹے بعد شام کے چھ بج کو پانچ منٹ پر ۲۰۰۹ کے جہاز پر جینوا کے لئے روانہ ہوئے۔مطلع ابر آلود ہوگیا تھا۔