تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 540
۵۱۴ ہوئے تھے۔چودھری ظفر اللہ خالصا حب روم تک ہمارے ساتھ آئے اور پھر وہاں سے بیگ رہالینڈ روانہ ہوگئے۔ان کا ساتھ خدا کے فضل سے ایک نعمت ثابت ہوا۔اللہ تعالیٰ تمام ان دوستوں پر فضل فرمائے جنہوں نے اس سفر کے تعلق میں مدد کی ہے۔اب عنقریب یہاں ڈاکٹروں سے مشورہ کیا جائے گا۔احباب خاص دعائیں جاری رکھیں کیونکہ یہ میر سے علاج کی کوششوں کا آخری مرحلہ ہے۔خليفة السيح الله اگلے دن ۱۰ مٹی کو ۳ بجے ڈاکٹر پروفیسر روسیو PROFESSOR PROSSER نے جو زیور کہ ہسپتال KANTONSPITZEL میں کام کر رہے تھے۔وقت مقرر تھا حضور اور خاندان و خدام کی طبیعت میں فکر تھا اور دعائیں کرتے تھے کہ خدا تعالے حضور کے مرض کی صحیح تشخیص اور اس کے علاج کا سامان بنا ئے وقت مقررہ پر حضور ڈاکٹر روسیو کے پاس پہنچے وہ نہایت تپاک سے پیش آیا بڑی توجہ سے حضور کے کیس کے نوٹس لئے اور مختلف معانوں کی تاریخیں مقرر کیں۔ڈاکٹر پرو فیسر روسیو یہاں کے ایک ماہر طبیب تھے۔ہز ایکسی لنسی مسٹر غلام محمد سابق گورنر جنرل پاکستان نے بھی ان سے ہی علاج کروایا تھا۔ار مٹی کو اسی تسلسل میں میں سر کے مختلف ایکس ریزہ لئے گئے حضور اس معائنہ کے بعد تشریف لائے تو بہت تعریف فرمائی فرمایا یہاں بہت ہی اچھا معائنہ کرتے ہیں۔اس خوبی سے ایکس ریز لئے گئے کہ کوئی حصہ نہیں چھوڑا۔ار مٹی کو ڈاکٹر روسیو کے انتظام کے ماتحت کوئی معائنہ نہ تھا لیکن حضور نے ایک ہومیو پیتیک ڈاکٹر گیرل ( CISEL) سے ملنے کا وقت مقرر کروایا ہوا تھا۔حضور صبح نو بجے ان سے ملے یہ بڑا زندہ دل طبیب تھا۔خود ہنستا اور حضور کو ہنساتا رہا اور توجہ سے حالات سنے اور ادویہ تجویز کیں لیکن یہ معلوم ہونے پر کہ حضور خود بھی ہو میو پیتھی سے واقف ہیں حضور کو اپنی ادویہ کی الماری دکھائی اور حضور نے اسے مختلف ادویہ بتائیں جو حضور استعمال فرما چکے تھے۔حضور وہاں سے فارغ ہو کر کچھ وقت کے لے بازار کی طرف تشریف لے گئے اور پھر پچھلے پہر حضور باہر سیر کے لئے گئے ایک خوشنما مقام BELVOIR PARK نامی ایک ریستوران ه - روزنامه الفضل " ریوه ۱۲ مئی ۶۱۹۵۵ صدا