تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 531 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 531

نے قہوہ منگوا کر دیا وہ گرم گرم پیا ایک ایسپرین کی پڑیا کھائی تو پھر جا کہ نیند آئی اور ایسی گہری نیند آئی کہ جب چودھری صاحب صبح کی نماز پڑھ چکے تو میں جا گا۔چو دھری صاحب نے عذر کیا کہ آپ کی بیماری اور بے چینی کی وجہ سے میں نے آپ کو نماز کیلئے نہیں جگایا بہر حال قضائے حاجت کے بعد کرسی پر نماز ادا کی اور پھر ناشتہ کیا۔اتنے میں روشنی ہو چکی تھی۔دُور دُور سے عرب اور شام کی زمینیں نظر آرہی تھیں بہر حال بقیہ سفر نہایت عمدگی سے کٹا اور ہم سات بجے دمشق پہنچ گئے امیرو ڈروم پر دمشق کی جماعت کے احباب تشریف لائے ہوئے تھے جو سب بہت اخلاص سے ملے برادرم منیر الحسنی بھی جماعت کے ساتھ تشریف لائے ہوئے تھے۔ایرو ڈروم کے ہالی میں جا کر بیٹھ گئے جہاں پاکستان کے منسٹر بھی چوہدری ظفر اللہ خانصاحب کے ملنے کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے مستورات کے لئے برادرم سید بعد الدين الحصنی جو منیر الحصنی کے چھوٹے بھائی ہیں ، کی مستورات تشریف لائی ہوئی تھیں۔مستورات کو گھرلے گئیں پیچھے پیچھے ہم بھی پہنچ گئے محبت اور اخلاص کی وجہ سے بدرالدین الحصنی نے سارا گھر ہمارے لئے خالی کر دیا ہے اس وقت ہم اس میں ہیں جس محبت سے یہ سارا خاندان ہماری خدمت کہ رہا ہے اس کی مثال پاکستان میں شکل سے ملتی ہے۔میرا درم سید بدرالدین حصنی شام کے بہت بڑے تاجر ہیں لیکن خدمت میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ اپنے اخلاص کی وجہ سے وہ تصادم زیادہ نظر ده آتے ہیں رئیس کم نظر آتے ہیں یہاں چونکہ سردی بہت ہے اور یورپ کی طرح HEATING SYSTEM نہیں ہے۔مجھے سردی کی وجہ سے زیادہ تکلیف ہوگئی ہے۔یہاں کے قابل ڈاکٹر کو بلا یا گیا جس کے معائنہ کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ وہ واقعی قابل ہے۔فرانس کا پڑھا ہوا ہے۔بعض امور جو تجربہ سے بیماری کو بڑھانے والے ہوتے ہیں اس نے اُن کو بہت جلدی اخذ کر لیا منور احمد نے بتایا کہ جب ڈاکٹر کو فیس دینے لگے تویستید منیر الحصنی صاحب نے بڑے زور سے روکا یہ ہمارا خاندان کا ڈاکٹر ہے ہم اس کو سالانہ فیس ادا کرتے ہیں اس کو فیس نہ دیں اس سے معلوم ہوا کہ یہاں بھی بڑے خاندان یوروپ کی طرح ڈاکٹروں کو ماہانہ یا سالانہ فیس ادا کرتے ہیں اور ہر دفعہ آنے پر الگ فیس نہیں دی جاتی۔اب یہ پروگرام ہے کہ انشاء اللہ سات تاریخ کو ہم بیروت جائیں گے اور آٹے کو اٹلی روانہ ہوں گے۔چودھری صاحب انشاء اللہ ساتھ ہی ہوں گے ان کی ہمراہی بہت تسلی اور آسائش کا موجب رہی ہے۔اللہ تعالے اُن کو جزائے خیر دے۔دلوں میں ایسی محبت کا پیدا کرنا محض اللہ تعالے کا ہی کام ہے۔