تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 532
۵۰۶ انسان کی طاقت نہیں اس لئے ہم اللہ تعالے کے ہی شاکر ہیں کہ اس نے ہمارے لئے وہ کچھ پیدا کر دیا جو دوسرے انسانوں کو باوجود ہم سے ہزاروں گنے طاقت رکھنے کے حاصل نہیں۔ایک دن یہاں بھی شدید دورہ ہوا تھا مگر خدا کے فضل سے کم ہو گیا اب معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ملک میں پہنچے کہ جہاں HEATING SYSTEM ہوتا ہے۔بیماری کے ایک حصہ کو کافی فائدہ ہوگا جو حملہ یہاں آکر ہو اوہ زیادہ تر دماغی تھا۔یعنی جسم پر حملہ ہونے کی بجائے دماغ پر لگتا تھا بڑی سخت گھر مٹ تھی۔اس وقت یہ دل چاہتا تھا کہ اڑ کر اپنے وطن چلا جاؤں مگر مجبوری اور مغدوری تھی ادھر علاج کا مقام بھی بہت قریب آگیا تھا اس لئے عقل کہتی تھی اب سفر کی غرض کو پورا کرو شاید اللہ تعالی گلی صحت ہی عطا فرمادے اور جسم آئندہ کام کے قابل ہو جائے۔انشاء اللہ ہم اب آٹھ یا نو تاریخ کو تا ریا خط کے ذریعہ سوئٹزر لینڈ سے اپنے حالات لکھیں گے۔احباب دعاؤں میں مشغول رہیں کیونکہ علاج کا مرحلہ تو اب قریب آرہا ہے اس سے پہلے تو سفر ہی سفر تھا۔سب احباب جماعت احمدیہ اور عزیزوں اور رشتہ داروں کو السّلام علیکم۔مرزا محمود احمد یا اے اس روز حضور نے نماز ظہر سے قبل سیدہ نجمیہ ربیت الحسن الجابي مرحوم ) کا نکاح سيد عبد القباني کے ساتھ ایک ہزار لیرہ سوری مہر معجل اور پانچ صد لیرہ سوری مہر موصل پر پڑھا اور اس کے بابرکت ہونے کی دعا فرمائی۔یہ پہلا نکاح تھا جو حضور نے ایک شامی احمدی کا ایک شامی خاتون کے ساتھ پڑھایا۔نماز ظہر کے بعد حضور مجلس معرفان میں رونق افروز رہے اور شامی احباب سے بلا تکلف عربی زبان میں گفتگو فرماتے رہے۔ایک دوست نے عرض کیا کہ حضور ہمارا جی چاہتا تھا کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوں اور حضور کی زیارت کریں لیکن اس کی ہمت نہ تھی ہمارا اللہ خود حضور کو ہمارے پاس لے آیا یہ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی بات تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ صرف متکلم ہی نہیں بلکہ مجلس میں ہر موجود شخص کا یہی احساس تھا حضور نے فرمایا ہاں ایسا ہو جاتا ہے اور پھر ایک حکایت سنائی کہ ایک شہر میں اللہ کا ایک معذور بندہ رہا تھا اس سے دور ایک ولی اللہ تھا اس معذور بزرگ کے دل ہے۔روزنامه المفضل ربوه ۱۰ مئی ۱۹۵۵ منت ۲ -