تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 530
حضور کچھ وقت وہاں تشریف فرما رہے اور پھر واپس تشریف لائے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور اس کے بعد مخلصین کو مصافحہ کا موقعہ عطا فرمایا۔تقریباً ساڑھے پانچ بجے ڈاکٹر یوسف الموصلی صاحب معائنہ کے لئے تشریف لائے انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ حضور کو مکمل آرام کی ضرورت ہے اور یہی اصل علاج ہے۔شیخ نور احمد صاحب منیر جو ان دنوں بیروت (لبنان) میں مبلغ احمدیت کے فرائض انجام دے رہے تھے ایک روز قبل شرف ملاقات حاصل کر چکے تھے اس روز بھی لبنان کی جماعت کے ایک اور دوست کے ساتھ آئے تا حضور کی خدمت میں اصرار کے ساتھ یہ درخواست کریں کہ حضور بیروت میں بھی تشریف لاویں اور جماعت کو زیارت کا موقع دیں۔حضور نے از راه شفقت بیروت میں قیام منظور فرمالیا۔۲ مئی ۱۹۵۵ء :- اس روز حضور نے ظہر و عصر کی نماز کے بعد بعض شامی اور فلسطینی احباب سے مسئلہ فلسطین کے بارہ میں سوجی میں گفتگو فرمائی۔نیز مشرق وسطی میں سلسلہ کی ترقی کے بارہ میں بعض سکیموں پر غور کیا اور اصحاب الرائے سے مشورہ فرمایا۔مئی ۱۹۵۵ء : اس دن حضور نے امیر مقامی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے نام ایک مکتوب تحریر فرمایا جس میں سفر دمشق اور آئندہ پروگرام پر روشنی ڈالنے کے علاوہ السید منیر الحصنی اور ان کے مخلص خاندان کی عقیدت و محبت کا نہایت پیارا نقشہ کھینچا گیا تھا۔مذکورہ مکتوب کے الفاظ یہ تھے۔وشق۔عزیزم مرزا البشیر احمد صاحب السلام عليكم ورحمة الله آج وشق آئے تیسرا دن ہے ہوائی جہاز میں تو اس حادثہ کے سوا کہ اس کے کمبل گلوبند کی طرح چھوٹے عرض کے تھے اور کسی طرح بدن کو نہیں ڈھانک سکتے تھے خیریت رہی، سردی کے مارے ساری رات جاگا اور پھر ہم ہونے لگا کہ شاید مجھے دوبارہ حملہ ہوا ہے۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب ساری رات مجھے کمبلوں سے ڈھانکتے رہے مگر یہ اُن کے بیس کی بات نہ تھی آخر جب میں بہت نڈھال ہو گیا تو میں نے چودھری صاحب کی طرف دیکھا جو ساتھ کی کرسی ہے تھے تو اُن کا چہرہ مجھے بہت نڈھال نظر آیا اور مجھے یہ وہم ہوگیا کہ چوہدری صاحب بھی بیمار ہو گئے ہیں ، آخر میں نے منور احمد سے کہہ کہ نیند کی دوائی منگوائی چودھری صاحب