تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 512 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 512

خدمات وقف کرنے کے لئے آمادہ کیا ہے اور وہ اس وقت ربوہ میں کام کر رہا ہے جو دو ڈاکٹر میں اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔ان میں سے ایک میرا بیٹا ہے جس کو میں نے اپنے خرچ سے پڑھوا کر احمد یہ جماعت کے لئے وقف کیا جب کہ سینکڑوں دوسرے ڈاکٹر اس خرچ پر دو جہینہ کے لئے بھی آنے کو تیار نہیں تھے۔اگران معترضین کے دل میں دیانت ہے تو آٹھ سال کے لئے نہیں صرف چھے چھ مہینے کے لئے اپنے رشتہ داروں کو خدمت جماعت کے لئے لے آئیں اور منور احمد سے دگنا گزارہ لے لیں اب بھی میں اسے اپنے خرچ پر لے جارہا ہوں تاکہ وہاں وہ بڑے بڑے ہسپتالوں میں نئی دریافتیں سیکھ کر آئے اور ربوہ پہنچ کر جاعت کی خدمت کرے پس اس کا لے جانا بھی آپ لوگوں پر احسان ہے کیونکہ اس کا خرچ میں خود دے رہا ہوں اور اس کے علم کا فائدہ آپ کو پہنچے گا۔جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے دنیا کے آخر میں جنت بھی قریب آجائے گی اور دوزخ بھی قریب آجائے گی۔میں نے ساری عمر کوشش کی کہ قریب آئی ہوئی جنت میں تم داخل ہو جاؤ اگر تم میں سے بعض پھر بھی دوزخ ہی میں گھسنے کی کوشش کریں تو میں تو حسرت بھرے دل سے انا للہ ہی پڑھ سکتا ہوں اور کیا کر سکتا ہوں۔خدا تعالیٰ تمہاری آنکھیں کھولے اور ان دشمنوں کی بھی آنکھیں کھولے جو حدیت پر چھوٹے اعتراض کرتے ہیں۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفه آبیع الثانی از کراچی 1 اپنی صحت سے متعلق حضور کا قیم فرمودہ نوٹ کیوں طبیعت بہتر ہورہی ہے۔مگر ارضی مورخه ۱۹ اپریل ۱۹۵۵ء طور پر طبیعت گرتی ہے۔ویسے مرض کے بعض حصوں کی زیادتی معلوم ہوتی ہے بعینی بائیں بازو کی حرکت میں جو آسانی پیدا ہو گئی تھی۔اس میں کمی آگئی ہے۔مٹی بناتے وقت انگلیاں سیدھی ہوتے لگ گئی تھیں۔اب پھر مرنے لگ گئی ہیں۔لیکن یہ فرق بھی ہے کہ پہلے میں بائیں ہاتھ کی مدد سے آزار بند باندھ نہیں سکتا تھا۔اب میں باندھنے پر قادر ہوگیا ہوں۔کسی قدر عجیب سا معلوم ہوتا ہے مگر باندھ لیتا ہوں۔اسی طرح پہلے بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں پوری جیسی نہیں تھی۔جب انگلیاں میں ملاتا تھا۔معلوم ہوتا تھا کہ کچھ حس میں فرق ہے دائیں ہاتھ کی تشہد کی انگلی اور انگوٹھے سے کوئی چیز نہیں پڑی روزنامه الفضل " ریوه ۲۳ اپریل ۱۹۵۵ء ص