تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 490
بیماریوں میں فرق نہیں۔اگر اس خیال سے بیماری کو دیکھا جائے کہ بیمار کیا محسوس کر رہا ہے تو پھر ویسی ہی یہ خطر ناک ہے جیسی وہ خطر ناک ہے چنا نچہ ایک اور ڈاکٹر نے جب یہی بات کہی تو میں نے اُن سے کہا کہ بتائیے میں فکر کس طرح نہ کروں جبکہ میرا دل محسوس کر رہا ہے کہ میری حالت خطرے میں ہے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ جب تک آپ سے زیادہ دباغی طاقت والا ڈاکٹر آپ کو ماننے پر مجبور نہ کر دے۔آپ معذور ہیں میں کیا کہہ سکتا ہوں آپ کو یہ یقینی دلا دیا کہ اس وقت آپ خطرے سے باہر ہیں۔یہ کسی ایسے ڈاکٹر کے اختیار میں نہیں جو اپنی دماغی قوت کے لحاظ سے آپ سے زیادہ نہ ہو۔بہر حال اس مشورہ کے بعد بعض ربوہ کے ہمارے احمدی ڈاکٹر جو تھے انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ابھی نہیں جانا چاہیئے۔ابھی سردی ہے اور یہ مرض سردی سے ہی متاثر ہوتی ہے۔میں نے اس پر سوئٹزر لینڈ اور اٹلی اور ہالینڈ اور انگلینڈ تاریں دیں جن کے جوابات بذریعہ تار آئے کہ ہم نے یہاں کے ڈاکٹروں سے مشورہ کر لیا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ کی بیماری کا علاج یہاں بڑی حد تک ہو سکتا ہے اور یہاں کا موسم ہرگز آپ کی بیماری کے خلاف نہیں آپ فورا آجائیں یہاں ہر قسم کا انتظام ہسپتال وغیرہ کا موجود ہے۔یورپ کے ملکوں کے رہنے والے ڈاکٹروں کی ان تاروں سے ریوہ کے ڈاکٹروں کے منہ بند ہو گئے کیونکہ سردی میں تو وہ رہ رہے ہیں۔ربوہ والے تو نہیں رہ رہے۔ربوہ والے تو اپنے موسم پر قیاس کرتے ہیں پھر وہ لوگ ان بیماریوں کے ماہر بھی ہیں۔عزیزم شیخ ناصر احمد نے سوئٹزر لینڈ سے تار دی ہے کہ میں نے معین صورت میں یہانی کے ڈاکٹروں سے مشورہ کر لیا ہے اور وہ یہی کہتے ہیں کہ وہ یہاں آجائیں ہم علاج کر سکتے ہیں۔اور یہاں ہر قسم کی سہولتیں بہتا ہیں۔قریباً اسی مفہوم کی تار انگلینڈ سے بھی آئی ہے اس لئے میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میر انسان جو پیدا ہوا ہے اس نے کرنا ہے اُن گھڑیوں میں جب میں محسوس کرتا تھا کہ میرا دل ڈوبا کہ ڈوبا مجھے یہ غم نہیں تھا کہ میں اس دنیا کو چھوڑ رہا ہوں مجھے یہ غم تھا کہ میں آپ لوگوں کو چھوڑ رہا ہوں اور مجھے یہ نظر آرہا تھا کہ ابھی ہماری جماعت میں وہ آدمی نہیں پیدا ہوا جو آپ کی نگرانی ایک باپ کی شکل میں کرے میرا د مارغ بوجھ نہیں برداشت کر سکتا تھا مگر اس وقت میں برابر یہ دعا کرتا رہا کہ اے میرے خدا جو میرا حقیقی باپ اور آسمانی باپ ہے مجھے اپنے بچوں کی فکر نہیں کہ وہ